صوبائی ورکرز ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا کا 108واں اجلاس چیئرمین بورڈ کیپٹن (ر) میاں عادل اقبال کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں محنت کشوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سیکرٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ شیر عالم خان نے مختلف امور پر بورڈ کو تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس میں ورکرز ویلفیئر بورڈ کے سینئر افسران کے علاوہ حکومتی اور مزدور تنظیموں کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں مختلف امور زیر غور لائے گئے اور ان پر سیر حاصل بحث کی گئی۔ اس موقع پر بورڈ نے اس اہم تجویز کی منظوری دی کہ رواں سال محنت کشوں کے 10 بچوں اور بچیوں کو سی ایس ایس امتحان کی تیاری کی خاطر چار ماہ کی خصوصی تربیت کے لیے سول سروسز اکیڈمی لاہور بھجوایا جائے گا، تاکہ محنت کش طبقے کے بچوں کو قومی سطح کے مقابلہ جاتی امتحانات میں مؤثر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔بورڈ نے محنت کشوں کی فلاح و بہبود کو مزید مستحکم بنانے کے لیے جہیز گرانٹ میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے رقم 4 لاکھ روپے سے بڑھا کر 6 لاکھ روپے کرنے کی منظوری دی، جبکہ ڈیتھ گرانٹ 8 لاکھ روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دی گئی، تاکہ مرحوم محنت کش کے اہل خانہ کو بہتر مالی سہارا فراہم کیا جا سکے۔اجلاس کے دوران HR کمیٹی اور ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی (DPC) کی سفارشات بھی پیش کی گئیں، جنہیں بورڈ نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔صوبائی وزیر برائے محنت فیصل خان ترکئی کی خصوصی ہدایت پر ریگی للمہ پشاور میں واقع 2056 فیملی فلیٹس میں کمرشل مارکیٹ، ہسپتال اور بچیوں کے لیے گرلز اسکول کے قیام کی بھی باقاعدہ منظوری دی گئی، جس سے رہائشیوں کو بنیادی اور معیاری سہولیات میسر آئیں گی۔اس کے علاوہ سابقہ بورڈ کی جانب سے منظور شدہ اسٹیچنگ (سلائی) پائلٹ پروجیکٹ کی کارکردگی بھی اجلاس میں پیش کی گئی۔ بورڈ نے ووکیشنل انسٹی ٹیوٹس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس منصوبے کو پورے صوبے میں شروع کرنے کی منظوری دے دی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین بورڈ کیپٹن (ر) میاں عادل اقبال نے کہا کہ خیبر پختونخوا ورکرز ویلفیئر بورڈ محنت کش طبقے کی فلاح، معاشی تحفظ اور سماجی بہتری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتا رہے گا
