
ملاکنڈ ڈویژن میں لیویز فورس کی استعداد کار بڑھانے، افرادی قوت اور دستیاب وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانے اور اضلاع کی ضروریات کا جائزہ لینے کے لیے کمشنر ملاکنڈ ڈویژن اقبال حسین باچا کی زیرِ صدارت تمام ڈپٹی کمشنرز اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز (فنانس اینڈ پلاننگ) کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈویژن کے تمام ڈپٹی کمشنرز، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز (فنانس اینڈ پلاننگ) اور ریجنل انفارمیشن آفیسر سوات نے شرکت کی۔اجلاس میں لیویز فورس کی موجودہ افرادی قوت، تنخواہوں، اسلحہ و گولہ بارود، حفاظتی آلات، گاڑیوں اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق تفصیلی معلومات جمع کرنے اور اضلاع کی حقیقی ضروریات کے مطابق وسائل کی منصفانہ تقسیم کے امور کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے ہدایت کی کہ تمام اضلاع لیویز فورس کی استعداد کار میں اضافے کے لیے اپنی ضروریات مرتب کریں اور دستیاب وسائل کا مکمل ریکارڈ مرتب کرکے فراہم کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضلعی اور صوبائی لیویز اہلکاروں کا ریکارڈ الگ الگ رکھا جائے جبکہ اہلکاروں کی تعداد، عہدوں، ڈی ڈی او کوڈ اور تنخواہوں کی تفصیلات متعلقہ ضلعی اکاؤنٹس دفاتر سے حاصل کی جائیں۔اجلاس میں موجودہ اسلحہ، گولہ بارود اور اضافی اسلحے کی ضروریات کا ریکارڈ مرتب کرنے، تمام لیویز اہلکاروں کے لیے بلٹ پروف جیکٹس کی فراہمی اور ضرورت کے مطابق اضافی حفاظتی سامان محفوظ رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی۔کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ اضلاع میں دستیاب گاڑیوں کی حالت، مرمت، ایندھن اور نئی گاڑیوں، خصوصاً کوئیک رسپانس فورس (QRF) کے لیے پک اپ گاڑیوں کی ضروریات کا جائزہ لیا جائے۔ اسی طرح لیویز اہلکاروں کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کی نشاندہی بھی کی جائے۔اجلاس میں ضلع بونیر اور ضلع شانگلہ میں لیویز فورس کے قیام کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے تمام ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ لیویز فورس سے متعلق تمام مطلوبہ معلومات اور ضروریات جمعہ 30 اکتوبر 2026ء صبح 10 بجے تک مقررہ گوگل فارم کے ذریعے کمشنر آفس کو ارسال کی جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وسائل کی تقسیم اور ضروریات کا تعین صرف گوگل فارم کے اعداد و شمار کی بنیاد پر نہیں بلکہ دستیاب دستاویزی ریکارڈ کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا، تاکہ علاقائی جغرافیے، فرائض اور ہنگامی حالات کے تقاضوں کے مطابق وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جا سکے۔
