خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم اور ویمن ایمپاورمنٹ کا ایک اہم اجلاس بدھ کے روز ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفیئر پشاور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین زبیر خان نے کی۔اجلاس میں ممبران کمیٹی و اراکین صوبائی اسمبلی نیلوفر بابر اور صوبیہ شاہد سمیت محکمہ زکوٰۃ و عشر، سوشل ویلفیئر، للسائل و المحروم فاؤنڈیشن، کے پی کمیشن آن دی سٹیٹس آف وومن، زمونگ کور، ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفیئرخیبر پختونخوا، ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفیئر ضم اضلاع، چائلڈ ویلفیئر کمیشن، محکمہ زراعت، محکمہ خزانہ، کے پی آئی ٹی بورڈ، بورڈ آف ریونیو کے اعلیٰ حکام اور شیخ زید اسلامک سنٹر یونیورسٹی کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔اجلاس کے دوران 31 دسمبر 2025 کو منعقدہ اجلاس کی کارروائی میں درج پیرا نمبر 17، جو عشر سے متعلق ہے، کے تناظر میں کمیٹی کی ہدایات پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ متعلقہ محکموں کی کارکردگی، درپیش مسائل اور مستقبل کی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس میں متعلقہ حکام نے عشر کے تصور پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ فتح مکہ کے بعد عشر کا نظام عالمِ اسلام میں باقاعدہ طور پر نافذ ہوا، جو فصلوں، باغات، چارہ، شہد وغیرہ پر لاگو ہوتا رہا اور ریاست کے لیے ریونیو کے حصول کا ایک اہم ذریعہ تھا۔ اجلاس میں عشر سے جڑے جدید تصورات، خصوصاً صنعت میں اس کے اطلاق کے حوالے سے بھی غور و خوض کیا گیا۔ مزید بتایا گیا کہ سلجوقی دور میں مصالح المرسلۃ کے تحت ٹیکس کے نفاذ کا تصور رائج رہا۔کمیٹی کی رکن نیلوفر بابر نے اس موقع پر کہا کہ 1970 تک چترال کا مالی نظم و ضبط عشر کے نظام کے تحت چلایا جاتا رہا۔ کمیٹی کے چیئرمین زبیر خان نے کہا کہ ایوانوں میں رہتے ہوئے ایسی پالیسیاں وضع کرنا مقصود ہوتا ہے جن کے ذریعے متعلقہ محکموں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد ملے۔ انہوں نے زور دیا کہ عشر کے ذریعے حاصل ہونے والے محاصل کو متعلقہ اداروں کو بااختیار بنانے اور مالی امور کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے استعمال کیا جائے۔چیئرمین کمیٹی نے عشر کے تصور کو صوبائی سطح پر نافذ کرنے کے حوالے سے محکمہ زراعت سے فصلوں کی پیداوار سے متعلق ٹھوس اور مستند معلومات فراہم کرنے پر زور دیا۔ باغات کو عشر کے طریقہ کار میں شامل کرنے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔اجلاس میں عشر کے نظام کو ڈیجیٹائز کرنے اور صوبائی سطح پر نافذ کرنے کے لیے کے پی آئی ٹی بورڈ کی جانب سے ضروری اقدامات کو ناگزیر قرار دیا گیا، جبکہ اس تصور کے فروغ کے لیے مؤثر ابلاغِ عامہ اور عوامی شعور اجاگر کرنے کو بھی اہمیت دی گئی۔ اس ضمن میں دیگر صوبوں کے ماڈلز کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کی تیاری پر زور دیا گیا۔اجلاس کے دوران کم آمدنی والے مستحق طبقات کی معاونت اور ان کی داد رسی کے لیے زکوٰۃ و عشر کے تحت مؤثر اقدامات کو ناگزیر قرار دیا گیا۔ مزید برآں محکموں کی منصوبہ بندی کے لیے درست اور جامع ڈیٹا کی دستیابی کو ضروری قرار دیا گیا، جس پر کے پی آئی ٹی بورڈ نے بھرپور تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔اجلاس کے اختتام پر متعلقہ حکام نے سوشل ویلفیئر کے اسٹیچیوٹری اداروں بشمول پروونشل کونسل فار ریہیبلیٹیشن آف ڈسیبل پرسنز، پروونشل کونسل آف سوشل ویلفیئر، سینئر سٹیزن کونسل، زمونگ کور (انسٹی ٹیوٹ آف اسٹیٹ چلڈرن)، چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن، پروونشل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف وومن اور للسائل و المحروم فاؤنڈیشن کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی۔
