خیبر پختونخوا کے وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخرِجہان کی زیر صدارت محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول پشاور میں ای کھلی کچہری کا انعقاد ہوا۔محکمہ ایکسائز کے حوالے سے عوام کے شکایات اور معروضات براہ راست سننے اور اس کے بروقت ازالہ کرنے کیلئے یہ پہلی کھلی کچہری تھی جس میں سیکرٹری ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خالد الیاس سمیت محکمہ کے تمام شعبوں کے اعلی افسران نے شرکت کی۔ کھلی کچہری کے دوران صوبہ بھر اور صوبے سے باہر سے مجموعی طور پر 46 فون کالز موصول ہوئیں، جبکہ فیس بک لائیو سیشن کے دوران عوام کی جانب سے 280 پیغامی تاثرات (کمنٹس) موصول ہوئے۔ ان شکایات اور تجاویز میں گاڑیوں کی رجسٹریشن، انسدادِ منشیات کے حوالے سے شکایات و مہمات کے آغاز کی درخواستیں، ناکوں پر گاڑیوں اور مسافروں کو درپیش مسائل، مختلف مقامات پر ایکسائز عملے کی تعیناتی اور دیگر امور شامل تھے۔صوبائی وزیر نے کھلی کچہری کے دوران عوامی شکایت پر ناکوں پر شہریوں کے موبائل فون چیک کرنے کے عمل کا سخت نوٹس لیتے ہوئے واضح ہدایات جاری کیں کہ دورانِ چیکنگ عوام کی عزت و احترام کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کے ذاتی موبائل فون چیک کرنا غیر قانونی عمل ہے اور اگر کوئی افسر یا اہلکار اس میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔صوبائی وزیر نے کہا کہ اس ضمن میں محکمہ ایکسائز کے حوالے سے عوام اپنی شکایات ان کے آفیشل سوشل میڈیا پیجز پر درج کرا سکتے ہیں، جن پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔صوبائی وزیر سید فخرِجہان نے موقع پر ہی عوامی مسائل کے فوری حل کیلئے متعلقہ حکام کو مؤثر اقدامات اٹھانے کے احکامات جاری کیے۔انہوں نے شکایت کنندگان کی نشاندہی پر واضح ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ دورانِ ڈیوٹی ناکوں پر تعینات افسران و اہلکار کسی صورت ٹک ٹاک یا دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کیلئے ویڈیوز نہیں بنائیں کیونکہ محکمہ ایکسائز کی اصل ذمہ داری منشیات کے خاتمے کی ہے، نہ کہ اس کی آڑ میں ذاتی برانڈنگ یا فلمی مناظر بنا کر عوام کی تذلیل کرنا۔ اگر آئندہ کوئی افسر یا اہلکار اس عمل میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔کھلی کچہری کے دوران صوبے کے طول و عرض سے عوام نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت اور صوبائی وزیر ایکسائز سید فخرِجہان کی سرپرستی میں زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت انسدادِ منشیات کے خلاف جاری مؤثر آپریشن کو ایک احسن اقدام قرار دیا۔ عوام کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت میں محکمہ ایکسائز نے پہلی مرتبہ منشیات کے ناسور کے خلاف اس نوعیت کا مؤثر اور نتیجہ خیز آپریشن شروع کیا ہے۔ عوام نے صوبائی وزیر ایکسائز کی انتھک کوششوں کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔صوبائی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ منشیات کے خلاف محکمہ ایکسائز کی جانب سے ڈیلرز، منشیات فروشوں اور اس کے عادی افراد کے خلاف بلا امتیاز آپریشن جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ گھناونا دھندا ہماری نئی نسل کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے، اس لیے اس میں ملوث عناصر کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے وژن اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت ’اختیار عوام کا‘ کے وژن پر عمل پیرا ہے اور عوام کی ہر جائز شکایت پر بروقت اور مؤثر کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔
