خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا اجلاس پیر کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین قائمہ کمیٹی و ممبر صوبائی اسمبلی افتخار علی مشوانی نے کی۔ اجلاس میں اراکین قائمہ کمیٹی وممبران صو بائی اسمبلی محمد عبدالسلام افریدی، عدنان خان، محترمہ ثوبیہ شاہد، محترمہ شہلا بانو اور محترمہ نیلوفر بابر نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن، محکمہ قانون، چیئرمین ٹیکس بورڈ پشاور، پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ اور صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا کے متعلقہ افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں 7 فروری 2026 کو ہونے والے گزشتہ اجلاس میں دیے گئے احکامات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ محکمے نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں بعض اسکولوں کی زمینوں پر مالکان کی جانب سے قبضے کیے گئے ہیں، جن کا مؤقف ہے کہ انہوں نے زمین اس شرط پر دی تھی کہ ایک کلاس فور ملازم ان کے خاندان سے رکھا جائے گا۔ اس پر کمیٹی اراکین نے ہدایت کی کہ ایسے تمام سکولوں کا ضلعی تفصیلی ڈیٹا آئندہ اجلاس میں اسمبلی کے سامنے پیش کیا جائے۔محترمہ نیلوفر بابر کے سوال پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ ضلع چترال میں اسکولوں کی ضروری مرمت اور نئے کمروں کی تعمیر کا کام جاری ہے، جن میں سے پانچ اسکولوں کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ محترمہ ثوبیہ شاہد نے ضلع دیر میں 1960 میں تعمیر ہونے والی اسکول عمارتوں کی خستہ حالی اور طلبہ کی کم گنجائش کا مسئلہ اٹھایا اور ان کی فوری ازسرنو تعمیر کے احکامات جاری کرنے پر زور دیا۔ رکن صوبائی اسمبلی محمد عبدالسلام آفریدی کے سوال پر سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے وضاحت کی کہ گریڈ 12 سے 18 تک کے اساتذہ اور دفتری عملے، جو ایک ہی سکول یا ضلع میں دو سال مکمل کر چکے ہیں، کو طے شدہ ٹرانسفر فارمولے کے تحت تبادلہ کیا جائے گا۔سیکرٹری نے مزید بتایا کہ صوبائی کابینہ نے 200 سکولوں کو آؤٹ سورس کرنے کی منظوری دی ہے، جبکہ پہلے مرحلے میں 500 اسکولوں کو اس نظام کے تحت لایا جا رہا ہے تاکہ انرولمنٹ میں اضافہ اور تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔ چیئرمین ٹیکس بورڈ پشاور نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ رواں سال درسی کتب کی چھپائی میں تین کروڑ 40 لاکھ روپے کی بچت ہوئی ہے، جس سے سرکاری خزانے کو بڑا فائدہ پہنچا۔ اجلاس کے اختتام پر چیئرمین قائمہ کمیٹی افتخار علی نشوانی نے ہدایت کی کہ صوبے بھر میں تمام خستہ حال اسکول عمارتوں اور کمروں کو فوری طور پر منہدم کر کے نئی محفوظ عمارتیں تعمیر کی جائیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
