خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ ثقافت، سیاحت، آثارِ قدیمہ و عجائب گھر کا اجلاس منگل کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی شرافت علی نے کی

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ ثقافت، سیاحت، آثارِ قدیمہ و عجائب گھر کا اجلاس منگل کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی شرافت علی نے کی۔ اجلاس میں قائمہ کمیٹی کے اراکین محمد نعیم خان، عارف احمد زئی، ارباب محمد عثمان خان، سمیع اللہ خان، زر عالم خان، عبدالمنینم، محمد نثار باز، محترمہ نیلوفر بابر، محترمہ شازیہ جدون، محترمہ خدیجہ بی بی، محترمہ ریحانہ اسماعیل اور محترمہ امنہ سردار نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری محکمہ ثقافت، سیاحت، آثارِ قدیمہ و عجائب گھر، متعلقہ محکمے کا عملہ، محکمہ قانون اور صوبائی اسمبلی کے افسران بھی موجود تھے۔اجلاس میں 9 اگست 2025 کو ہونے والے سابقہ اجلاس کی ہدایات کی روشنی میں گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ محکمہ کی جانب سے جی ڈی اے کے قواعد و ضوابط کے نفاذ، گزشتہ چار برسوں کے دوران کیے گئے مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدات پر جامع بریفنگ دی گئی، جس پر قائمہ کمیٹی نے تفصیلی غور و خوض کیا۔رکن قائمہ کمیٹی محترمہ ریحانہ اسماعیل کے سوال پر گلیات کے ہوٹلز سے متعلق تشکیل دی گئی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ چیئرمین ذیلی کمیٹی سمیع اللہ خان، رکن صوبائی اسمبلی، نے پیش کی۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ جی ڈی اے کے ہوٹلز کو نگراں حکومت کے دور میں گرین ٹورازم پاکستان کے تحت وفاقی حکومت کو طویل المدتی لیز پر دیا گیا ہے۔ اس معاملے پر کمیٹی اراکین نے سیر حاصل بحث کرتے ہوئے اس امر پر شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ آیا نگراں حکومت کو اس نوعیت کے طویل المدتی معاہدے کرنے کا آئینی و قانونی اختیار حاصل تھا یا نہیں۔قائمہ کمیٹی کے تمام اراکین نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ نگراں حکومت کا دائرہ اختیار محض روزمرہ کے انتظامی امور تک محدود ہوتا ہے اور اسے طویل المدتی معاہدے کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ مذکورہ معاہدہ فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے متعلق تمام اختیارات دوبارہ محکمہ ثقافت و سیاحت کو منتقل کیے جائیں۔ اجلاس کے اختتام پر چیئرمین قائمہ کمیٹی شرافت علی نے اراکین کو ہدایت کی کہ اپنی سفارشات آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تحریری صورت میں مرتب کریں تاکہ اس معاملے کو صوبائی اسمبلی کے فلور پر مؤثر انداز میں اٹھایا جا سکے

مزید پڑھیں