خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انتظامیہ کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی عبدالمنعم نے کی۔ اجلاس میں اراکین قائمہ کمیٹی و ممبران صوبائی اسمبلی محمد عارف، شرافت علی، عبدالسلام آفریدی، اکرام غازی، محترمہ افشاں حسین، محترمہ ایمن جلیل جان اور محترمہ عارفہ بی بی نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ، محکمہ قانون، محکمہ اینٹی کرپشن، پبلک سروس کمیشن اور صوبائی اسمبلی کے متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔اجلاس میں ممبر قائمہ کمیٹی ورکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی کی جانب سے پیش کردہ توجہ دلاؤ نوٹس پر تفصیلی غور کیا گیا، جس میں سیکرٹریٹ ملازمین کے لیے پی ایم ایس میں مختص 10 فیصد کوٹے کا معاملہ زیر بحث آیا۔ اراکین نے اپنی آراء دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ پی ایم ایس ایک مسابقتی امتحان ہے، اس لیے اس میں ملحقہ محکموں کے اہلکاروں کو بھی یکساں موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔ سیکرٹری انتظامیہ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ 2007 کے رولز کے تحت ملحقہ محکموں کے اہلکار اس کوٹے میں شامل ہوتے رہے، تاہم بعد ازاں قواعد میں ترمیم کے بعد یہ کوٹہ صرف سیکرٹریٹ ملازمین تک محدود کر دیا گیا۔ کمیٹی نے محکمہ انتظامیہ کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں اس حوالے سے جامع تجاویز پیش کی جائیں۔اجلاس میں 31 دسمبر2024 کے اجلاس میں دی گئی ہدایات پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی اراکین نے متفقہ طور پر تجویز دی کہ ڈیپوٹیشن کی مدت تین سال سے کم کر کے دو سال مقرر کی جائے اور اس میں مزید توسیع نہ دی جائے۔ اس ضمن میں محکمہ انتظامیہ کو اگلے اجلاس میں سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔قائمہ کمیٹی نے پبلک سروس کمیشن کے حکام کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن اپنی تمام خالی اسامیوں کو پر کرے۔ اسی طرح انٹی کرپشن کے محکمہ کو بھی ہدایت کی کہ محکمے میں مستقل بنیادوں پر بندے بھرتی کرے اور ڈیپوٹیشن کہا سہارا نہ لیا جائے
