وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر نے کہا ہے کہ زرعی تحقیق کے فروغ، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور نئی فصلی و باغبانی اقسام کی تیاری کے ذریعے زرعی پیداوار میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ زرعی شعبے کی پائیدار ترقی، غذائی تحفظ اور کسانوں کی خوشحالی کے لیے تحقیق اور جدت ناگزیر ہیں جبکہ زرعی تحقیقی ادارہ ترناب پشاور اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے زرعی تحقیقی ادارہ ترناب پشاور کے دورے کے موقع پر زراعت ریسرچ اور ادارے کی کارکردگی، تحقیقی سرگرمیوں اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ کے دوران کیا۔ اس موقع پر مشیر زراعت نے ادارے کے مختلف جدید لیبارٹریوں کا تفصیلی معائنہ بھی کیا، جہاں ماہرین نے انہیں لیبارٹریوں کے افعال، تحقیقی سرگرمیوں اور زرعی شعبے کو فراہم کی جانے والی خدمات کے بارے میں آگاہ کیا۔ بعد ازاں میاں محمد عمر نے زرعی تحقیقی ادارہ ترناب میں قائم شہد کوالٹی ٹیسٹنگ لیب کا افتتاح بھی کیا، جس کا مقصد شہد کے معیار کی جانچ، تصدیق اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق معیاری شہد کی پیداوار کو فروغ دینا ہے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل زراعت ریسرچ ڈاکٹر عبدالرؤف، سینئر ڈائریکٹر زرعی تحقیقاتی ادارہ ترناب ڈاکٹر عبد الباری، ڈائریکٹر زراعت ریسرچ ضم اضلاع ڈاکٹر محمد یونس و دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ زرعی تحقیقی ادارہ ترناب خیبرپختونخوا کا سب سے قدیم زرعی تحقیقی ادارہ ہے۔ صوبے بھر میں سولہ تحقیقی ادارے اور اسٹیشنز مختلف فصلوں، پھلوں، سبزیوں اور زرعی شعبے کے دیگر اہم شعبوں میں تحقیق کر رہے ہیں۔ ان اداروں کے پاس مجموعی طور پر 1459 ایکڑ سے زائد اراضی موجود ہے۔ زرعی تحقیقی ادارہ ترناب نے آڑو، آلوچہ، خوبانی، انگور، بادام، انار، پیکان نٹ، انجیر، مالٹا، گریپ فروٹ، امرود اور لیچی سمیت مختلف پھلوں کی متعدد اقسام متعارف کرائی ہیں۔ اسی طرح گندم کی بائیوفورٹیفائیڈ اقسام بھی تیار کی گئی ہیں جن سے زرعی پیداوار اور غذائی معیار میں نمایاں بہتری آئی ہے۔مشیر زراعت میاں محمد عمر نے بریفنگ کے دوران مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں، پانی کی قلت اور بڑھتی ہوئی غذائی ضروریات کے تناظر میں زرعی تحقیق کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے سائنسدانوں کی بین الاقوامی تربیت، جدید تحقیقی انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن، جدید جراثیمی و جینیاتی مواد کے حصول اور تحقیقی نتائج کی مؤثر انداز میں کسانوں تک منتقلی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ مشیر زراعت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت خیبرپختونخوا زرعی تحقیق، زیتون کی کاشت، شہد کی پیداوار، جدید باغبانی، ماحول دوست زرعی ٹیکنالوجیز کے فروغ اور تحقیقی اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے ہر ممکن وسائل فراہم کرے گی تاکہ صوبے کے زرعی شعبے کو مزید مستحکم بنایا جا سکے اور زرعی برآمدات میں اضافہ یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے ثمرات براہ راست کسانوں تک پہنچانے کے لیے توسیعی خدمات کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ، غذائی تحفظ کا حصول اور کسانوں کی آمدن میں بہتری ممکن بنائی جا سکے۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ زرعی تحقیق کے شعبے کی نمایاں کامیابیوں میں وائرس سے پاک آلو کے بیج کی تیاری، پھلدار پودوں کی سرٹیفیکیشن کا نظام، جدید آبپاشی اور پانی بچانے والی ٹیکنالوجیز، بائیو فرٹیلائزرز کی تیاری، زرعی اجناس کی ویلیو ایڈیشن، فوڈ پروسیسنگ، شہد کی پیداوار میں اضافہ اور زیتون کی تجارتی بنیادوں پر کاشت شامل ہیں۔ صوبے میں شہد کی مکھیوں کی افزائش کے فروغ کے نتیجے میں تقریباً چار لاکھ چھتے قائم کیے گئے ہیں جبکہ 15 ہزار ٹن معیاری شہد کی پیداوار حاصل ہوئی ہے۔ اسی طرح زیتون کی کاشت کو فروغ دینے کے لیے 12 ہزار ایکڑ رقبے پر جدید اقسام لگائی گئی ہیں اور زیتون کے تیل کے 10 ایکسٹریکشن یونٹس قائم کیے گئے ہیں۔بریفنگ کے مطابق ترناب میں قائم صوبے کی واحد پیسٹی سائیڈ ریزیڈیو لیبارٹری زرعی ادویات کے معیار اور باقیات کی جانچ کی خدمات فراہم کر رہی ہے جبکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق فرٹیلائزر لیبارٹری کی ایکریڈیٹیشن بھی حاصل کی جا چکی ہے۔ ادارے نے بائیو فرٹیلائزرز کی رجسٹریشن اور ماحول دوست زرعی ٹیکنالوجیز کے فروغ میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
