وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے زراعت و چیئرمین صوبائی سیڈ کونسل میاں محمد عمر کی زیر صدارت صوبائی سیڈ کونسل کا 47واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے میں معیاری بیجوں کی فراہمی، نئی اقسام کی منظوری اور زرعی تحقیق کے فروغ سے متعلق اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا. اجلاس میں سیکرٹری زراعت ڈاکٹر محمد بختیار خان، ڈائریکٹر جنرل زراعت تحقیق ڈاکٹر عبدالروف، ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع ڈاکٹر نویدخان سمیت صوبائی سیڈ کونسل کے ممبران نے شرکت کی۔مشیر زراعت میاں محمد عمر نے کونسل کا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ معیاری اور جدید بیج زرعی پیداوار میں اضافے اور کسانوں کی آمدن میں بہتری کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ حکومت خیبر پختونخوا زرعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ بیجوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ زرعی سائنسدان بہترین بیجوں کی ایسی اقسام متعارف کروائیں جن سے کسانوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے اور وہ بہتر پیداواری اور موسمی حالات سے مطابقت رکھنے والے بیج کی اقسام سے فائدہ لے سکیں۔صوبائی سیڈ کونسل کے اجلاس میں مختلف فصلوں، پھلوں، سبزیوں، اجناس، تیل دار اجناس اور دالوں کی نئی اقسام سے متعلق تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا اور بتایا گیا کہ صوبائی سیڈ کونسل کو وفاقی سیڈ ایکٹ 1976 کے تحت صوبے میں نئی اقسام کی منظوری، غیر مؤثر یا نقصان دہ اقسام کی روک تھام، بین الصوبائی تجارتی پیداوار کی اجازت اور دیگر متعلقہ امور کے حوالے سے اختیارات حاصل ہیں۔ اجلاس میں صوبائی سیڈ کونسل نے غور و خوض کے بعد مختلف اداروں کی جانب سے پیش کی گئی 19 تخم کی اقسام کی کاشت کی منظوری دی جن میں پھلوں، سبزیوں، اجناس، تیل دار اجناس اور دالوں کی نئی اقسام شامل تھیں۔ ان بیچ میں محکمہ زراعت کے تحقیقی اداروں کے علاوہ قومی زرعی تحقیقی اداروں اور جامعات کی جانب سے تیار کردہ اقسام بھی شامل ہیں۔صوبائی سیڈ کونسل کے اجلاس میں پھلوں کی تین اقسام، سبزیوں دو،اناج کی اجناس کے شعبے میں دس، تیل دار اجناس میں چھ کی منظوری دی گئی۔مشیر زراعت میاں محمد عمر نے مزید کہا کہ حکومت زرعی تحقیق کے اداروں کی استعداد کار میں اضافے اور جدید تحقیق کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
