صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمن کا ایچ آئی وی سے بچاؤ، علاج اور آگاہی کے فروغ کے عزم کا اعادہ

صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت خیبرپختونخوا ایچ آئی وی کی روک تھام، بروقت تشخیص، معیاری علاج اور اس مرض سے وابستہ بدنامی کی مناسبت غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار خیبرپختونخوا کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن کے زیر اہتمام منعقدہ ایچ آئی وی سے متعلق قانون سازی بابت مشاورتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر شاہین آفریدی، چئیر پرسن خیبرپختونخوا کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن ڈاکٹر سمیرا شمس، متعدد سابق خواتین اراکینِ صوبائی اسمبلی، ترقیاتی شراکت داروں، محکمہ صحت کے افسران، طبی ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ ایچ آئی وی ایک بیماری ہے، کوئی بدنامی نہیں۔ اس مرض کے ساتھ زندگی گزارنے والے ہر فرد کو عزت، احترام، بروقت تشخیص، بلا تعطل علاج اور معیاری طبی سہولیات تک مساوی رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں آگاہی پیدا کرنا، بروقت ٹیسٹنگ اور علاج کی سہولیات کی فراہمی ہی اس بیماری پر قابو پانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں اس وقت 10,655 افراد ایچ آئی وی کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں، جبکہ اندازاً 39 ہزار افراد اس مرض کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ رجسٹرڈ مریضوں میں 7,721 مرد، 2,684 خواتین اور 250 ٹرانس جینڈر افراد شامل ہیں۔صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا ہیلتھ پالیسی کے تحت ایچ آئی وی کی روک تھام اور علاج کے لیے جامع اقدامات کررہی ہے، جن میں اسکریننگ سروسز کی توسیع، اینٹی ریٹرو وائرل ادویات کی بلا تعطل فراہمی، جدید لیبارٹری سہولیات، بیماری کی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا، ایچ آئی وی سروسز کو دیگر صحت پروگراموں کے ساتھ مربوط کرنا اور طبی عملے کی استعداد کار میں اضافہ شامل ہے۔تقریب کے دوران غیر سرکاری تنظیم بلو وینز کے حکام نے خیبرپختونخوا ایچ آئی وی اینڈ ایڈز سے متعلق قانون پر تفصیلی پریزنٹیشن دی، جس میں قانون کے اہم نکات، ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد کے حقوق، امتیازی سلوک کے خاتمے، رازداری کے تحفظ اور مؤثر قانونی فریم ورک پر روشنی ڈالی گئی۔صوبائی وزیرِ صحت نے خیبرپختونخوا کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن، بلو وینز، ترقیاتی شراکت داروں، طبی ماہرین اور سول سوسائٹی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ایچ آئی وی سے متعلق آگاہی، مؤثر علاج اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی کے خلاف جنگ میں سب سے بڑی رکاوٹ بیماری نہیں بلکہ اس سے وابستہ بدنامی کا خوف، غلط معلومات اور امتیازی رویے ہیں۔ حکومت اس امر کو یقینی بنا رہی ہے کہ ہر شہری بلا خوف و خطر تشخیص اور علاج کی سہولیات حاصل کر سکے، جبکہ رازداری، خون کے محفوظ استعمال اور مساوی طبی سہولیات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔آخر میں صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت خیبرپختونخوا ترقیاتی شراکت داروں، طبی ماہرین، سول سوسائٹی اور عوام کے تعاون سے ایک مضبوط، جامع اور عوام دوست صحت کا نظام قائم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ ایچ آئی وی کے تدارک میں کوئی کسر نہ رہے۔

مزید پڑھیں