ممبر صوبائی اسمبلی و چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن افتخار علی مشوانی کے زیر صدارت محکمہ تعلیم کی سٹینڈنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی وزیر تعلیم ارشد ایوب،کمیٹی کے اراکین ممبران صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی،زرشاد خان، احسان اللہ میانخیل، رشاد خان، احمد کنڈی اور صوبیہ شاہد کے علاوہ سیکرٹری ایجوکیشن خالد خان، سپیشل سیکرٹری مسعود احمد، مینیجنگ ڈائریکٹر مرجڈ ایریاز ایجوکیشن فاؤنڈیشن فریحہ پال، ڈائریکٹر ایجوکیشن سجاد اختر اور چیف پلاننگ آفیسر زین اللہ شاہ کے علاوہ پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے حکام، ای ایس ایف، محکمہ قانون، ہیومن ریسورسز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ سٹینڈنگ کمیٹی نے صوبے کے مختلف اضلاع میں سرکاری سکولوں کی عمارتوں پر قبضہ اور اس حوالے سے عدالتوں میں زیر التوا کیسز کا جائزہ لیا اور ایجوکیشن حکام کو ہدایت کی کہ تمام ضلعی دفاتر میں لیگل آفیسرز کی تعیناتی کے لئے اقدامات کیے جائیں جبکہ اس مقصد کے لئے منتخب تدریسی کیڈر کے اساتذہ کو سکولوں میں پڑھانے کے لئے بھیجا جائے اور لیگل ایڈوائزرز کی خدمات حاصل کرنے کے لیے فوراً طریقہ کار وضع کیا جائے تاکہ درس و تدریس کا عمل متاثر نہ ہو۔ کمیٹی نے اقلیتی کوٹہ کے تحت اساتذہ کی بھرتی کے عمل کا بھی تفصیلی جائزہ لیا اور محکمہ قانون، محکمہ تعلیم اور ہیومن ریسورسز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے حکام سے رائے لینے کے بعد فیصلہ ہوا کہ جن اضلاع میں اقلیتی کوٹہ کے امیدوار دستیاب نہیں وہاں قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے جبکہ جن جن اضلاع میں بھرتی کے عمل میں عدالتی کیسز موجود ہیں ان کو چھوڑ کر باقی اضلاع میں کنڈیشنل بھرتی کے آرڈرز جاری کئے جائیں۔ جبکہ ضلع ڈی ائی خان کی اساتذہ بھرتی عمل میں پیجیدگی کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ ہوا کہ وہاں کے لئے الگ سے انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے جو کہ شفاف بھرتی کے عمل کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ سات دنوں کے اندر سٹینڈنگ کمیٹی کو ارسال کرے گی۔ ممبر صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی کے سوال کے جواب میں انہیں بتایا گیا کہ حکومت گرلز ایجوکیشن کی بہتری کے لئے عملی اقدامات کر رہی ہے اور امسال بھی گرلز سٹائپنڈ پروگرام کے لئے دو ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اور محکمہ تعلیم اس کو بروقت ریلیز کے لئے بھی عملی اقدامات کرے گی۔ سٹینڈنگ کمیٹی نے متفقہ طور پر نجی سکولوں کے اساتذہ کی کم سے کم منظور شدہ اجرت تک تنخواہ لانے کے لئے کیس صوبائی کابینہ کو بھجوانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے علاوہ کمیٹی نے ریگولرائزیشن ایکٹ 2018 کے تحت بھرتی شدہ اساتذہ کی سنیارٹی کے مسائل حل کرنے کے لئے ممبر صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی کی سربراہی میں محکمہ قانون، ہیومن ریسورسز منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ، ایڈوکیٹ جنرل اور محکمہ تعلیم کے حکام پر مشتمل کمیٹی کے قیام کا بھی فیصلہ کیا جو تمام رولز اور ریگولیشن کا جائزہ لے کر سٹینڈنگ کمیٹی کو اپنی رپورٹ مرتب کرے گی۔
ضلع مردان میں طلبہ کی کم تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے تین سکولوں کے مختلف سکولوں کے ساتھ انظمام کے حوالے سے فیصلہ ہوا کہ ایجوکیشن حکام اگلے کمیٹی اجلاس میں انضمام سٹریٹجی اور پروپوزل پیش کرے گی۔ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت کمیونٹی سکولوں میں فیسلیٹیٹرز کے بھرثیوں کے طریقہ کار کے بارے میں تفصیلی رپورٹ سٹینڈنگ کمیٹی کے اگلے اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ ممبر صوبائی اسمبلی زرشاد خان کے سوال پر محکمہ تعلیم حکام نے انہیں بتایا کہ ان کے حلقے میں 11 سکولوں کی تعمیر کے لئے فوری طور پر اقدامات کئے جائیں گے جبکہ تعمیر شدہ دو سکولوں میں اساتذہ کی آسامیوں کی فائنانس محکمہ سے منظوری کے لیے بھی فوری اقدامات کیے جائیں گے۔
آئی ٹی اساتذہ کی سروس رولز کے حوالے سے سٹینڈنگ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ہیومن ریسورسز منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو محکمہ تعلیم سے ڈرافٹ سروس رولز موصول ہوئے ہیں۔ 14 جولائی کو ہونے والے ایس ایس آر سی اجلاس میں یہ کیس شامل ہے اور سروس رولز بننے کے بعد ائی ٹی کیڈر کے اساتذہ کے کے مسائل حل ہو جائیں گے۔ وزیر تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا کہ حکومت تعلیمی بہتری کیلئے عملی اقدامات کررہی ہے۔ اور سٹینڈنگ کمیٹی ممبران اور تمام سٹیک ہولڈرز کے رائے اور فیصلوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سکولوں سے باہر بچوں کو سکولوں میں لانے ڈراپ آوٹ کو کنٹرول کرنے اور سکولوں میں موجود بچوں کو کوالٹی ایجوکیشن کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات کرنے ہیں۔
