جاری مون سون سیزن اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات کے پیش نظر وفاقی اور خیبرپختونخوا حکومت کے اعلیٰ حکام نے پیر کے روز ایک اہم اجلاس میں صوبے کی تیاریوں، حفاظتی اقدامات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔شرکاء نے مون سون کے دوران ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامات، مختلف اداروں کے درمیان رابطوں، درپیش چیلنجز اور امدادی صلاحیتوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اس سال غیر متوقع مون سون بارشوں، غیر معمولی گرمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ملک میں شدید موسمی واقعات کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر ان علاقوں میں شامل ہیں جہاں اچانک سیلاب، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (جی ایل او ایف)، لینڈ سلائیڈنگ، اربن فلڈنگ اور دیگر قدرتی آفات کا خطرہ زیادہ ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے اور یہاں قدرتی آفات کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ شدید موسمی حالات کی صورت میں متعلقہ اداروں کو بہت کم وقت میں مؤثر کارروائی کرنا ہوتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تمام ادارے مکمل تیاری، باہمی رابطے اور چوبیس گھنٹے الرٹ رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مؤثر پیشگی تیاری نہ صرف صوبے میں انسانی جانوں، روزگار اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے بلکہ قومی سطح پر بھی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بناتی ہے۔اجلاس میں سیکرٹری ریلیف، بحالی و آبادکاری خیبرپختونخوا سہیل خان نے صوبے کے مون سون پلان اور متعلقہ اداروں کی تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔انہوں نے بتایا کہ صوبے کے تمام 37 اضلاع میں 12 متعلقہ محکموں کے تعاون سے مون سون کے حوالے سے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ خطرات کے جائزے کی بنیاد پر 11 اضلاع کو زیادہ حساس قرار دیا گیا ہے جہاں اچانک سیلاب، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، دریائی طغیانی، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر خطرات کے امکانات زیادہ ہیں۔سیکرٹری ریلیف نے بتایا کہ خطرناک مقامات کی نشاندہی کر لی گئی ہے، تمام اضلاع کے ہنگامی منصوبوں کو اپ ڈیٹ کر کے صوبائی نظام کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے، مقامی آبادی میں آگاہی مہم چلائی گئی ہے، رضاکاروں کو تربیت دی گئی ہے جبکہ انخلا کے راستوں اور امدادی مراکز کا بھی تعین کر لیا گیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ریسکیو آلات، مواصلاتی نظام، ہنگامی مشینری اور دیگر ضروری سامان کی جانچ مکمل کر کے انہیں ہر وقت استعمال کے لیے تیار رکھا گیا ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ایمرجنسی آپریشن سینٹرز، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کو مون سون کے دوران مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ موسم، دریاؤں میں پانی کی صورتحال اور دیگر متعلقہ معلومات کی مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ بروقت فیصلے اور فوری امدادی کارروائیاں ممکن بنائی جا سکیں۔اجلاس میں وفاقی اور صوبائی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قبل از وقت وارننگ سسٹم، اداروں کے درمیان رابطوں اور ہنگامی ردعمل کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق ملک، صوبائی وزیر ریلیف، بحالی و آبادکاری عاقب اللہ خان بھی شریک تھے۔اجلاس میں چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، محکمہ موسمیات، پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا، محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ حکام اور صوبے بھر کے ڈپٹی کمشنرز نے بھی شرکت کی۔
