وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایت پر صوبائی حکومت نے سیاحتی مقامات پر آنے والے سیاحوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے اور ان کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے اقدامات مزید تیز کر دیے ہیں۔ اس سلسلے میں تمام ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں. دریاؤں، ندی نالوں اور دیگر آبی مقامات پر حفاظتی انتظامات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے سیاحتی سیزن کے پیش نظر تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ حکومتی احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔ اس سے متعلق ایک اجلاس میں عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا جس کی صدارت چیف سیکٹری خیبرپختونخوا نے کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ حفاظتی اقدامات کے تحت آبی مقامات کے قریب لائف جیکٹس کی دستیابی، مسافر کشتیوں کی جانچ، حساس مقامات پر دفعہ 144 کے نفاذ، ریڈ فلیگ سسٹم، موسم سے متعلق پیشگی اطلاعات کے نظام اور عوامی آگاہی مہم پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ریسکیو کشتیاں، غوطہ خوروں (ڈائیورز) اور دیگر ضروری امدادی آلات کی فراہمی بھی یقینی بنائی گئی ہے۔حکام کے مطابق گزشتہ چند دنوں کے دوران صوبے کے 99 آبی اور سیاحتی مقامات پر تقریباً 10 لاکھ سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی۔ بڑھتی ہوئی سیاحوں کی تعداد کے پیش نظر صوبائی حکومت نے تمام اہم آبی مقامات کی خصوصی میپنگ بھی مکمل کر لی ہے تاکہ وہاں مؤثر حفاظتی انتظامات برقرار رکھے جا سکیں۔اجلاس میں تمام اضلاع کو ہدایت کی گئی ہے کہ آئندہ تین روز کے اندر حکومتی احکامات پر عملدرآمد کی تفصیلی رپورٹ چیف سیکرٹری آفس کو ارسال کی جائے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیاحتی سیزن کے دوران نگرانی اور حفاظتی اقدامات کا یہ سلسلہ مسلسل جاری رکھا جائے گا۔دریں اثنا صوبے بھر میں مسافر کشتیوں کی پروفائلنگ بھی کی جا رہی ہے، جبکہ ان کشتیوں میں لائف جیکٹس اور دیگر ضروری حفاظتی سامان کی فراہمی کی ہدایت کی گء ہے تاکہ سیاح محفوظ ماحول میں سیاحت سے لطف اندوز ہو سکیں۔
