خیبرپختونخوا میں بچوں کی صحت و نشوونما کے لیے ماں کے دودھ کی افادیت کے تحت ایک ماہ پر محیط آگاہی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے، اور اس ضمن میں افتتاحی تقریب پشاور کے ایک نجی ہوٹل میں منعقد ہوئی جس کے مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان تھے۔ تقریب کا انعقاد ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز خیبرپختونخوا کے صوبائی نیوٹریشن سیل نے یونیسف، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن، ورلڈ فوڈ پروگرام اور ضلعی ہیلتھ اتھارٹیز کے تعاون سے کیا تھا۔ تقریب میں سیکرٹری صحت فیاض علی شاہ، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز، یونیسف، عالمی ادارہ صحت، ورلڈ فوڈ پروگرام، محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام، اطفال و نسواں سے متعلق طب کے ماہرین، نیوٹریشن ماہرین، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز، لیڈی ہیلتھ ورکر پروگرام کے نمائندگان، ترقیاتی شراکت داروں اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے کہا کہ ماں کا دودھ بچے کی زندگی کا پہلا، مکمل اور قدرتی غذائی ذریعہ ہے، جو نہ صرف نومولود کو بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے بلکہ اس کی جسمانی، ذہنی اور دماغی نشوونما میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیدائش کے پہلے گھنٹے میں بچے کو ماں کا دودھ پلانا اور ابتدائی چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ دینا بچوں کی صحت، غذائیت اور بقا کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بریسٹ فیڈنگ مہم اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مؤثر اور کامیاب اقدامات کو مزید مضبوط بنا کر ہر ماں اور ہر بچے تک محفوظ، باوقار اور معیاری غذائیت کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت ماں اور بچے کی صحت کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔صوبائی وزیر کو تقریب کے دوران محکمہ صحت کی جانب سے ماں کے دودھ کے فروغ کے لیے کیے گئے اہم اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انہیں بتایا گیا کہ صوبے میں پاکستان انفنٹ اینڈ ینگ چائلڈ نیوٹریشن اسٹریٹجی کو اپنایا گیا ہے، خیبرپختونخوا بریسٹ فیڈنگ ایکٹ 2015 پر عملدرآمد کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف طبی تنظیموں کی استعداد کار بڑھائی گئی ہے، عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کے مطابق قانون میں بہتری پر کام جاری ہے، بیبی فرینڈلی ہسپتال انیشیٹو کو مزید فعال بنایا جا رہا ہے، بیبی فرینڈلی کمیونٹی انیشیٹو کو وسعت دی جا رہی ہے، جبکہ کینگرو مدر کیئر سروسز کو بھی صوبے کے مزید مراکز تک توسیع دی جا رہی ہے۔شرکاء کو صوبے میں غذائیت سے متعلق تازہ ترین اعدادوشمار بھی پیش کیے گئے، جن میں بچوں میں غذائی قلت، قد کی کمی، کمزوری، ابتدائی دودھ پلانے کی شرح، صرف ماں کا دودھ پلانے کی شرح اور فوڈ سیکیورٹی کے اشاریوں میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر اس امر پر زور دیا گیا کہ اگرچہ متعدد شعبوں میں بہتری آئی ہے، تاہم غذائی قلت کے مکمل خاتمے کے لیے مربوط اور مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔صوبائی وزیر صحت نے محکمہ صحت کے تمام متعلقہ حکام، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز، میڈیکل سپرنٹنڈنٹس، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور دیگر فیلڈ سٹاف کو ہدایت کی کہ اگست بھر جاری رہنے والی آگاہی مہم کو مؤثر انداز میں چلایا جائے تاکہ ہر ماں تک بروقت اور درست رہنمائی پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں، بنیادی مراکز صحت اور کمیونٹی کی سطح پر ایسی سہولیات اور ماحول فراہم کیا جائے جہاں ماؤں کو اعتماد اور سہولت کے ساتھ اپنے بچوں کو دودھ پلانے میں مکمل معاونت حاصل ہو۔خلیق الرحمان نے کہا کہ حکومتِ خیبرپختونخوا ماں اور بچے کی صحت، غذائیت میں بہتری، بنیادی صحت کی سہولیات کے فروغ اور آئندہ نسلوں کو صحت مند بنانے کے لیے اپنے تمام ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر بھرپور اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے میڈیا، سول سوسائٹی، مذہبی رہنماؤں، تعلیمی اداروں اور صحت کے شعبے سے وابستہ تمام افراد پر زور دیا کہ وہ ماں کے دودھ کے فروغ کے قومی مشن میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں تاکہ غذائی قلت میں کمی، بچوں کی شرح اموات میں کمی اور ایک صحت مند خیبرپختونخوا کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے۔تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیر صحت نے یونیسف، عالمی ادارہ صحت، ورلڈ فوڈ پروگرام اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ خیبرپختونخوا ماں اور بچے کی صحت اور غذائیت کے شعبے میں مؤثر اصلاحات، پائیدار اقدامات اور عوام دوست پالیسیوں کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رکھے گی۔
