خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کی پشاور، ہری پور اور مردان میں کارروائیاں، جعلی مصالحہ جات، غیر معیاری مشروبات اور مصنوعی دودھ تلف

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان کی ھدایات پر فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے صوبے کے مختلف اضلاع میں غیر معیاری، مضرِ صحت اور ملاوٹی خوراک کے خلاف گزشتہ روز پشاور،مردان اور ہری پور میں بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے جعلی مصالحہ جات، غیر معیاری مشروبات اور مصنوعی دودھ برآمد کرکے تلف کر دیا، جبکہ مشینری بھی ضبط کر لی گئی۔ترجمان فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہاکہ پشاور میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے پیپل منڈی میں ایک دکان سے 1400 سے زائد پیکٹس جعلی اور غیر معیاری مصالحہ جات، جعلی سرکہ اور مس لیبل اشیائے خورونوش برآمد کرکے ضبط کر لیے گئے۔ اس حوالے سے دکاندار کے خلاف فوڈ سیفٹی قوانین کے تحت کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ادھرمردان کے فوڈ سیفٹی ٹیم نےتخت بھائی کے علاقے میں تحصیل انتظامیہ کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے مصنوعی دودھ تیار کرنے والی فیکٹری بے نقاب کر دی، جہاں سے 2000 لیٹر سے زائد مصنوعی اور مضر دودھ تلف کر دیا گیا، جبکہ تیاری میں استعمال ہونے والی مشینری بھی ضبط کرکے مزید قانونی کارروائی بھی آغاز کر دیا گیا۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ہری پور میں ایک بیوریجز فیکٹری کے نمونے لیبارٹری تجزیے میں غیر معیاری ثابت ہونے پر 1500 لیٹر سے زائد مشروبات موقع پر تلف کر دیے گئے اور فیکٹری مالک پر بھاری جرمانہ عائد کیا گیا۔معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار نے کامیاب کاروائیوں پر فوڈ سیفٹی ٹیموں کو سراہا اور کہا کہ جعلی، ملاوٹی اور غیر معیاری خوراک کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو محفوظ، معیاری اور حلال خوراک کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور انسانی صحت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں