وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے بہبودِ آبادی طفیل انجم نے محکمہ بہبودِ آبادی کے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی کے اصولوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں اور آبادی میں متوازن اضافے کے حوالے سے رہنما اصولوں پر جامع اور مربوط انداز میں کام کیا جائے۔یہ ہدایات انہوں نے پیر کے روز پشاور میں محکمہ بہبودِ آبادی کی کارکردگی اور جاری سرگرمیوں کے حوالے سے منعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل بہبودِ آبادی عبداللہ، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نوشیروان، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن عمران شاہ سمیت محکمہ کے دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران محکمہ بہبودِ آبادی کی جانب سے خاندانی منصوبہ بندی، عوامی آگاہی، فیلڈ سروسز اور آبادی سے متعلق مختلف اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور جاری منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر معاونِ خصوصی طفیل انجم نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے عوام میں خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات کو عوام کے لیے مزید آسان، مؤثر اور قابلِ رسائی بنایا جائے جبکہ دور دراز علاقوں میں بھی بنیادی سہولیات اور آگاہی پروگراموں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ آبادی اور وسائل کے درمیان توازن برقرار رکھنا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے، اس مقصد کے لیے محکمہ بہبودِ آبادی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ حکمتِ عملی کے تحت اپنی خدمات کو مزید بہتر بنانا ہوگا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ عوامی آگاہی مہمات کو مؤثر بنایا جائے اور خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے معاشرے کے مختلف طبقات تک معلومات پہنچانے کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں۔طفیل انجم نے مزید کہا کہ محکمہ کی کارکردگی میں بہتری، عوامی خدمات کے معیار میں اضافے اور مقررہ اہداف کے حصول کے لیے تمام افسران اپنی ذمہ داریاں پوری لگن اور جذبے کے ساتھ ادا کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو معیاری اور بروقت خدمات کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
