وزیراعلیٰ گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت چار محکموں کے کارکردگی معاہدوں پر دستخط

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت محکمہ اعلیٰ تعلیم، بلدیات، سیاحت اور سماجی بہبود نے منگل کے روز سول سیکریٹریٹ میں منعقدہ ایک تقریب میں کارکردگی کے فریم ورک معاہدوں پر دستخط کئے۔ ان معاہدوں کا مقصد چاروں شعبوں میں اصلاحات اور عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے واضح اہداف مقرر کرنا ہے۔تقریب میں وزیر بلدیات و اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی، مشیر سماجی بہبود لیاقت علی خان اور معاون خصوصی برائے سیاحت عادل اقبال کے علاوہ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری (جنرل) عابد مجید، سیکرٹری ہیومن ریسورس مینجمنٹ ذوالفقار علی شاہ اور سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات عادل شاہ سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر سیکرٹری بلدیات ظفر اسلام، سیکرٹری اعلیٰ تعلیم ڈاکٹر عنبر علی خان، سیکرٹری سماجی بہبود شریف حسین اور سیکرٹری سیاحت سعادت حسن نے متعلقہ فریم ورکس پر دستخط کئے۔ان معاہدوں میں گڈ گورننس روڈ میپ کو ٹھوس اور قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کرنے کے لئے اہداف اور مدتیں طے کئے گئے ہیں۔سماجی بہبود کے فریم ورک کے تحت محکمے نے 10 دارالامان اپ گریڈ کرنے اور 3 غیر فعال پناہ گاہوں کو فعال بنانے کا عزم کیا ہے، جس کے تحت 15 مراکز پر روزانہ تین وقت کا کھانا یقینی بنایا جائے گا۔ منصوبے میں پشاور میں سینٹر آف ایکسیلنس فار آٹزم کو بہتر بنانا، تین خصوصی تعلیمی اداروں کو اپ گریڈ کرنا اور پانچ دیگر اداروں کو آؤٹ سورس کرنا بھی شامل ہے۔ محکمے کے سروس ڈھانچے میں ترمیم کی نوٹیفکیشن کے علاوہ صوبے بھر کے 124 صنعتی تربیتی مراکز کو جدید بنانے کا کام بھی کیا جائے گا۔سیاحت کے فریم ورک میں صوبے کے بڑے سیاحتی مقامات کی صفائی، منصوبہ بندی اور بنیادی ڈھانچے پر توجہ دی گئی ہے۔ اس میں بڑے سیاحتی علاقوں میں روزانہ کچرا اٹھانے کا کام ٹھیکے پر دینا، گلیات، کاغان اور کمراٹ کے ماسٹر پلان مکمل کرنا اور گلیات میں سیوریج کے پائلٹ منصوبے کا قیام شامل ہے۔ محکمہ ٹھنڈیانی اور گنول میں مربوط سیاحتی زونز (آئی ٹی زیڈز) کے قیام کو بھی تیز کرے گا اور سات آرام گاہیں فعال کرے گا۔بلدیات کے فریم ورک کا مرکز کچرے کے انتظام اور شہری بنیادی ڈھانچے پر ہے۔ اس میں روزانہ 7 ہزار ٹن کچرے کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ پلیٹ فارم کا آغاز، ڈیجیٹل میپنگ کی تکمیل اور شہری علاقوں میں 6,200 گم شدہ مین ہولز نصب کرنا شامل ہے۔ کوہاٹ، پشاور، ایبٹ آباد اور مردان میں چار جدید لینڈ فل سائٹس کی تعمیر کا آغاز بھی کیا جائے گا۔اعلیٰ تعلیم کے فریم ورک کے تحت پانچ کمزور کارکردگی والے کالجوں کو آؤٹ سورس کرنے اور دو کالجوں کو اپلائیڈ سائنسز کالجز میں تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے۔ ایک ہزار سے زائد بی ایس طلبہ کو صنعتی اداروں میں انٹرن شپ دی جائے گی جبکہ پانچ جامعات میں انکیوبیٹرز کو فعال بنایا جائے گا۔ محکمہ رواں سال کے اختتام تک تحقیق و ترقی کے کمرشلائزیشن فریم ورک کا پائلٹ منصوبہ بھی شروع کرے گا۔اس موقع پر چیف سیکرٹری نے ان معاہدوں کو احتساب کے نظام کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا اور کہا کہ اب ہر محکمہ وزیراعلیٰ کے گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت واضح اور وقت کی پابندی کے حامل اہداف کا پابند ہوگا۔

مزید پڑھیں