معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ سمیع اللہ خان اور مشیر خزانہ مزمل اسلم کا پشاور بس ٹرمینل کا دورہ

خیبرپختونخوا حکومت نے پشاور بس ٹرمینل لاہور اڈہ کی حدود میں موجود محکمہ ٹرانسپورٹ کی ملکیتی سرکاری
قیمتی اراضی کو عوامی مفاد اور صوبائی وسائل میں بہتری کے لیے مؤثر انداز میں بروئے کار لانے کے امکانات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔اسی سلسلے میں معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ سمیع اللہ خان اور مشیر خزانہ مزمل اسلم نے پشاور بس ٹرمینل لاہور اڈہ کا دورہ کیا جہاں پر انھوں نے ٹرمینل سمیت اس پاس خالی اراضی اور زیر تعمیر عمارت کے مقامات کا بغور جایزہ لیا۔اس موقع پر سیکرٹری ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ محمد زبیر، سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات عادل شاہ، ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ حسن عابد، ایڈمنسٹریٹر پشاور بس ٹرمینل اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔دورے کے دوران متعلقہ حکام نے معاون خصوصی اور مشیر خزانہ کو پشاور بس ٹرمینل کی موجودہ صورتحال ودستیاب سہولیات سمیت محکمہ ٹرانسپورٹ کی ملکیتی اراضی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ان کو بتایا گیا کہ پشاور بس ٹرمینل لاہور اڈہ کی حدود میں محکمہ ٹرانسپورٹ کی ملکیتی اراضی کا مجموعی رقبہ تقریباً 55 کنال بنتا ہے، جس میں موجودہ بس ٹرمینل کے علاوہ اضافی اراضی بھی شامل ہے۔اس موقع پر بتایا گیا کہ مذکورہ سرکاری اراضی کے بہترین، مؤثر اور عوامی مفاد پر مبنی استعمال کے امکانات کے پیش نظر اس اہم مقام پر موجود سرکاری اثاثے کو بہتر انداز میں استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ سمیع اللہ خان نے کہا کہ صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ سرکاری اراضی کو عوامی مفاد میں بہتر انداز سے استعمال میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور بس ٹرمینل جیسے اہم مقام پر موجود اس قیمتی اثاثے کے استعمال کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ اس سے عوام کو سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ صوبائی وسائل میں بھی بہتری لائی جا سکے۔مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ سرکاری اثاثوں کا مؤثر استعمال بہتر مالیاتی نظم و نسق کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ اراضی کو مناسب منصوبہ بندی کے تحت ایسے منصوبوں کے لیے استعمال میں لایا جا سکتا ہے جن سے صوبائی حکومت کے وسائل کو مزید مستحکم کرنے میں مدد ملے گی اور یہاں کے بہترین لوکیشن کے باعث اس اثاثے کو مفید استعمال میں لایا جائے گا اور اس کو ضائع نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ اراضی پر جدید سہولیات سے آراستہ منصوبے قائم کیئے جاسکتے ہیں جس سے شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم ہونے کے ساتھ ساتھ آمدن کے نئے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔اس موقع پر ہدایت کی گئی کہ مذکورہ سرکاری اراضی کے مؤثر استعمال کے حوالے سے جامع تجاویز مرتب کی جائیں اور مزید پیش رفت کے لیے روڈ ٹرانسپورٹ بورڈ کا اجلاس طلب کیا جائے، جس میں تمام تکنیکی، مالی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لے کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔

مزید پڑھیں