
خیبرپختونخواکے وزیر توانائی وبرقیات نذیراحمدعباسی نے صوبے میں بجلی کی نعمت سے محروم اضلاع میں صوبائی حکومت کے جاری بعض منی مائیکروہائیڈل سٹیشنز(پن بجلی کے چھوٹے منصوبوں)کی عدم تکمیل اورکام کی سست روی پر سخت برہمی کااظہارکرتے ہوئے سیکرٹری توانائی وبرقیات سمیت چیف ایگزیکٹو پیڈوسے معاملے کی انکوائری کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں اور ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔پی ٹی آئی حکومت کے فلیگ شپ منصوبوں کے حوالے سے موصولہ عوامی شکایات پر صوبائی وزیر توانائی نے سخت نوٹس لیتے خبردارکیا ہے کہ اب آئیں،بائیں،شائیں نہیں چلے گا،ہنی مون کا وقت اب ختم ہوچکا ہے جس اہلکارنے کام نہیں کیا یا کوئی بھی غفلت وبدعنوانی میں ملوث پایا گیا توفارغ کیا جائے گااورقانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔خیبرپختونخواکے ضم اضلاع میں 13شمسی توانائی کے منی گرڈ سٹیشن تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہوچکے ہیں جن کا افتتاح آئندہ ماہ کیا جائے گا۔جس سے عوام کو گھریلواورکمرشل بنیادوں پر سستی ترین ماحول دوست بجلی فراہم کی جائیگی۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے محکمہ توانائی وبرقیات میں توانائی کے جاری منصوبوں کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں سیکرٹری توانائی وبرقیات نثاراحمد سمیت چیف ایگزیکٹو پیڈو اورمحکمے کے دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں منی مائیکروہائیڈل سٹیشنزکے فیزون میں مکمل ہونے والے 16منصوبوں اور2022میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ75منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سیلاب سے تباہ ہوئے والے 58منصوبوں کو بحالی پروگرام کے تحت مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ 17منصوبوں پر کام جاری ہے جورواں سال مکمل کرلئے جائیں گے۔ ان منصوبوں کوکمیونٹی بیسڈ پروگرام کے تحت مکمل کیا جارہا ہے جن پر 6ارب روپے لاگت آئے گی اوران سے مجموعی طورپر 29میگاواٹ بجلی پیداکی جائیگی۔اسی طرح دوسرے مرحلے میں 71منی مائیکرومنصوبوں پرکام جاری ہے۔ صوبائی وزیرتوانائی نذیراحمد عباسی نے منصوبوں پر کام کی سست روی اورعوامی شکایات پر متعلقہ پراجیکٹ ڈائریکٹر سے استفسارکیا کہ کس کی غفلت سے سیلاب کے دوران منصوبوں کے غلط ڈیزائن کے باعث تقریباًڈیڑھ ارب کا نقصان اٹھاناپڑاہے۔انہوں نے محکمے کو ہدایت کی کہ عوامی فلاحی منصوبوں کے تحت ہزارہ اورملاکنڈ ڈویژن میں سروے کیا جائے تاکہ نئی سائیٹس کی نشاندہی پر عوام دوست منصوبے شروع کئے جائیں۔
