
سیکرٹری زراعت خیبر پختونخوا ڈاکٹر محمد بختیار خان کی زیر صدارت صوبے میں کھاد کی دستیابی، ڈیلرز کی رجسٹریشن اور کسانوں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا، جس میں آل پاکستان فرٹیلائزرز ڈیلرز ایسوسی ایشن کے نمائندگان اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں صوبے میں کھاد کی موجودہ صورتحال، ڈیلرز کی رجسٹریشن، کھاد کی فروخت میں درپیش مشکلات، کسانوں کو بروقت کھاد کی فراہمی اور گندم کی آئندہ فصل کے لیے کھاد کی ضروریات سمیت مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ایسوسی ایشن کے نمائندگان نے ڈیلرز کی رجسٹریشن، کھاد کی فروخت اور ترسیل سے متعلق درپیش مشکلات سے اجلاس کو آگاہ کیا اور ان کے حل کے لیے تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے متبادل فرٹیلائزرز کی فروخت کی اجازت دینے سمیت دیگر مطالبات بھی پیش کیے۔اس موقع پر سیکرٹری زراعت ڈاکٹر محمد بختیار خان نے کہا کہ کسانوں کو معیاری کھاد کی بروقت اور آسان فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، اس لیے اس سلسلے میں کسی قسم کی رکاوٹ کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کھاد کی دستیابی اور ترسیل کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور ڈیلرز کو درپیش جائز مسائل کے حل کے لیے متعلقہ فورمز سے مؤثر رابطہ رکھا جائے۔ڈاکٹر محمد بختیار خان نے کہا کہ گندم کی کاشت کا سیزن شروع ہونے والا ہے، اس لیے کسانوں کو بروقت کھاد کی فراہمی انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کھاد کی دستیابی کے حوالے سے صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جائے گی تاکہ گندم کی کاشت متاثر نہ ہو اور کسانوں کو اپنی فصل کے لیے ضروری زرعی مداخل بروقت دستیاب ہوں۔سیکرٹری زراعت نے کہا کہ اجلاس میں سامنے آنے والے مسائل اور تجاویز کا جائزہ لے کر انہیں متعلقہ وفاقی و صوبائی فورمز پر اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں، کھاد ڈیلرز اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کے ذریعے مسائل کے حل اور کھاد کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔
