مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گندم کی درآمد اور سرکاری اداروں کے مالی نقصانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی گندم پالیسی کے نتیجے میں پہلے کسان متاثر ہوا اور بعد ازاں خیبرپختونخوا میں آٹے کی قلت پیدا ہوئی۔انہوں نے کہا کہ گندم کی پالیسی سے مڈل مین کو فائدہ پہنچایا گیا، جبکہ اب 7 لاکھ 50 ہزار ٹن گندم درآمد کی جا رہی ہے، جس سے قومی خزانے پر مزید مالی بوجھ پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ غلط پالیسیوں اور فیصلوں کی قیمت بالآخر عوام کو ادا کرنا پڑے گی اور اس کا براہِ راست اثر آٹے، روٹی اور ڈبل روٹی کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔مزمل اسلم نے کہا کہ گندم پالیسی میں مناسب منصوبہ بندی نہ ہونے کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال عوام کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔سرکاری اداروں کے مالی نقصانات پر بات کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ سرکاری اداروں کے 1.3 ٹریلین روپے کے نقصانات رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ ان کے مجموعی واجبات 10 ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وزراء کی جانب سے این ایف سی کے مختلف عمودی حصوں پر نظرثانی کی بات کی جا رہی ہے، تاہم وفاقی سطح پر مالیاتی نظم و نسق، حکمرانی اور اصلاحات کے حوالے سے بنیادی سوالات اپنی جگہ موجود ہیں۔مزمل اسلم نے کہا کہ وفاقی حکومت کی بدانتظامی اور اصلاحات میں ناکامی کا بوجھ آخرکار ملک اور عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق کم از کم صوبے بجٹ خسارے کا شکار نہیں ہیں۔مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اگر مالیاتی اور انتظامی نظام میں ری سیٹ کی ضرورت ہے تو اس کا آغاز سب سے پہلے وفاقی سطح سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے وفاقی سطح پر مالیاتی نظم و نسق، حکمرانی اور اصلاحات کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان شعبوں میں بہتری کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
