
گورنر خیبرپختونخوا کے مشیر برائے تعلیم ڈاکٹر سید عامر عبداللہ نے منگل کے روز محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے حوالے سے منعقدہ ابتدائی تعارفی اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس میں مشیر تعلیم کو محکمہ کے بنیادی ڈھانچے، قواعد و ضوابط، محکمہ کے ملحقہ اداروں کی ذمہ داریوں، خدمات اور اصلاحاتی ایجنڈے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں سیکریٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم عنایت اللہ وسیم کے علاوہ سپیشل سیکریٹری مسعود احمد،ایڈیشنل سیکریٹریز، چیف پلاننگ افیسر اور متعلقہ اداروں کے دیگر اعلی افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مشیر تعلیم کو بریفنگ دیتے ہوئے محکمہ کے صوبہ بھر میں تعلیمی اداروں اور تدریسی عملے کے بارے میں تفصیلات فراہم کی گئیں جبکہ اس شعبے کے ترقیاتی عمل اور منصوبوں،فنڈز اور دیگر امور کے بارے میں بھی تفصیلات فراہم کی گئیں۔گورنر خیبرپختونخوا کے مشیر تعلیم نے ضم اضلاع میں قائم سکولوں کے عملے کی تنخواہوں کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تنخواہوں کے گرانٹس ختم ہونے سے تین مہینے پہلے مناسب اقدامات اٹھانے چاہیے اور اس سلسلے میں ایک صیح طریقہ کاروضع ہونا چاہیے۔انھوں نے ہدایت کی کہ علاقائی ترقی میں ایمرجنسی کے تحت شامل ضم اضلاع سمیت منتخب 12 اضلاع کیلئے محکمہ کے مخصوص منصوبے فاسٹ ٹریک میں شامل کئے جائیں اور ہر نوعیت کے اقدامات میں یہ منصوبے شامل کئے جائیں جبکہ سکول سے باہر کے بچوں کیلئےخصوصی داخلہ مہم کیلئے بھی تیاری اور منصوبہ بندی ابھی سے کی جائے۔ انھوں نے اصلاحاتی اقدامات کے تحت وہ سکول جنھیں چلانے کیلئے نجی شعبے کے حوالے کیا گیا ہے کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں جبکہ اس حوالے سے سیکھنے کے نتائج کی تھرڈ پارٹی سے تجزیے کے بارے میں تفصیلات پر مبنی بریفنگ لینے کی ہدایت کی۔مشیر تعلیم نے کہا کہ سکول سے باہر بچوں کے حوالے سے مستقل سروے جاری رکھا جائے۔ انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ تعلیمی اداروں میں فرنیچر کی کمی اور اس حوالے سے سمال انڈسٹرز ڈویلپمنٹ بورڈ سے جڑے معاملات کے حل کیلئے مشیر صنعت کیساتھ معاملہ اٹھایا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ مشاہراتی طور پر لیئے گئے اساتذہ کی تنخواہوں کیلئے معقول طریقہ کار اپنانے کیلئے سمری مزید کارروائی کیلئے تیار کی جائے جبکہ غیر فعال سکولوں کے حوالے سے دستیاب ڈیٹا کو اپڈیٹ کرنے کی بھی ہدایت کی۔مشیر تعلیم نے نصاب کے معاملات کے حوالے سے بھی معلومات حاصل کیں اور قومی نصاب کے تحت مختلف تیار موضوعات(کنٹینٹس) کے بارے میں ایک اگاہی بریفنگ دینے کی ہدایت کی۔انھوں نے کہا کہ بہتر طرز حکمرانی کے بنیادی اصول شراکت داری، جوابدہی، شفافیت اور اصلاحات ہوتے ہیں لہذا تعلیم کے شعبے کے ہر منصوبے کا ہر اقدام ان اصولوں کے عین مطابق ہونا چاہیے۔ مشیر تعلیم نے کہا کہ تعلیمی نظام میں بزم ادب کی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے اور اضلاعی سطح پر اس طرح کی اہم سرگرمیاں منعقد ہونی چاہیے۔انھوں نے ابتدائی اورثانوی تعلیم کے حوالے سے جاری ترقیاتی منصوبوں کے تمام تفصیلات ایک یوم میں انھیں فراہم کرنے کی ہدایت کی جبکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل نئے منصوبوں کی تفصیلات 2 دنوں میں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔انھوں نے کہا کہ خدمات اور ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا اوردئیے گئے اہداف کے حوالے سے ٹھوس اور عملی نتائج فراہم کرنے ہوں گے۔
