کمشنر ملاکنڈ ڈویژن اقبال حسین باچا کی زیرِ صدارت ہیلتھ کیئر کمیشن کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد

کمشنر ملاکنڈ ڈویژن اقبال حسین باچا کی زیرِ صدارت ہیلتھ کیئر کمیشن کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد ہوا جس میں ملاکنڈ ڈویژن کے تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ انسپکٹرز اور ہیلتھ کیئر کمیشن کے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن کے قانونی و انتظامی ڈھانچے، طریق کار، طبی اداروں کی رجسٹریشن و لائسنسنگ، شکایات کے ازالے، فیلڈ انسپکشنز، قانونی کارروائیوں، عملے اور مالی وسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے اس امر پر زور دیا کہ سرکاری و نجی طبی اداروں کی مؤثر نگرانی اور معیارِ صحت کی بہتری براہِ راست عوام کی زندگیوں سے متعلق ہے۔اجلاس میں کمیشن کے موجودہ طریق کار میں آٹومیشن کی کمی، قانونی اختیارات اور ضلعی کمیٹیوں کے کردار، طبی آلات بشمول ایم آر آئی، سی ٹی اسکین اور ایکسرے یونٹس کے لائسنسنگ معیار، شکایات کے ریکارڈ اور خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا۔ کمشنر نے معائنوں، سیلنگ اور شکایات کے اعدادوشمار کے ساتھ فیلڈ سرگرمیوں کے ریکارڈ میں مطابقت یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہیلتھ کیئر کمیشن کے ریگولیٹری نظام اور قانونی ڈھانچے کا جائزہ لے کر متعلقہ تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔ تمام اضلاع سے رجسٹرڈ، نمٹائی گئی اور زیرِ التوا شکایات، طبی اداروں کی لائسنسنگ، مقررہ معیار و اشاریوں، جرمانوں، سیلنگ، ایف آئی آرز اور سال 2021ء سے اب تک کی قانونی کارروائیوں کا ریکارڈ سافٹ فارم میں طلب کیا گیا۔مزید برآں، سوات میں لائسنس جاری کرنے سے متعلق معلومات بھی سافٹ فارم میں فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی جبکہ کمیشن کے مالی وسائل، فنڈنگ کے ذرائع، عملے کی تنخواہوں، عہدوں، تعیناتیوں اور ملازمت کی مدت سے متعلق تفصیلات جمع کر نے کا فیصلہ کیا گیا۔کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے واضح کیا کہ ڈویژن میں کسی بھی ایسے منشیات بحالی مرکز کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو ہیلتھ کیئر کمیشن کے ساتھ رجسٹرڈ نہ ہو۔ ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی کہ غیر رجسٹرڈ مراکز کے خلاف قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے۔اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ متعلقہ حکام تمام مطلوبہ معلومات جمعہ30 اکتوبر 2026ء دوپہر 12 بجے تک کمشنر آفس کو فراہم کریں۔ موصولہ ڈیٹا کی تصدیق اور جانچ پڑتال کے بعد خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے آئندہ کے لیے ایکشن پلان تیار کیا جائے گا۔ ڈیٹا کی تصدیق مکمل ہونے تک متعلقہ منظوریوں کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں