
ممبر ایڈوائزری کونسل برائے تعلیم ڈاکٹر عامر عبداللہ کی زیر صدارت جمعہ کے روز خیبرپختونخوا پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ 2017ئ میں مجوزہ ترامیم کے مسودے کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد ہوا جس میں ایکٹ کی مختلف شقوں کو مزید مؤثر بنانے، عملدرآمد کے طریقہ کار کو بہتر بنانے اور نجی تعلیمی اداروں کی بہتر ریگولیشن کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں سیکریٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم عنایت اللہ وسیم، منیجنگ ڈائریکٹر خیبرپختونخوا پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی جاوید اقبال اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ایکٹ کے مختلف مندرجات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اس کی عملداری کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف قانونی، انتظامی اور ریگولیٹری پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ضمن میں ایکٹ کی مختلف شقوں میں بہتری، اپیلٹ ٹریبونل کے معاملات، خلاف ورزیوں پر سزاؤں، نجی تعلیمی اداروں کے لیے قواعد و ضوابط (رولز اینڈ ریگولیشنز) اور دیگر متعلقہ امور زیر بحث آئے۔اس موقع پر ڈاکٹر عامر عبداللہ نے کہا کہ مجوزہ ترامیم کا مقصد قانون کو مزید مؤثر، جامع اور قابلِ عمل ہونا چاہیے تاکہ نجی تعلیمی اداروں کی نگرانی اور ریگولیشن کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے اور بچوں کو معیاری تعلیم کے ساتھ مناسب اور محفوظ تعلیمی ماحول کی فراہمی بھی یقینی ہو۔انہوں نے ہدایت کی کہ مجوزہ ریگولیشنز میں بچوں کے تعلیمی مفادات اور اداروں میں مناسب جگہ کے معیار کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ انہوں نے ایکٹ کی مختلف شقوں پر تجاویز دیتے ہوئے ان کی عملداری اور مؤثر نفاذ کے حوالے سے ضروری بہتری لانے پر زور دیا۔ڈاکٹر عامر عبداللہ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مجوزہ ترامیم کے مسودے کو حتمی شکل دے کر منگل تک مزید قانونی کارروائی کے لیے محکمہ قانون کو ارسال کیا جائے۔
