
مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ ’’بدلتا، نکھرتا اور مضبوط خیبر پختونخوا‘‘ کے وژن کے تحت صوبے میں ادارہ جاتی اصلاحات، بہتر طرزِ حکمرانی، شفافیت اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔اطلاع سیل، سول سیکرٹریٹ پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحافیوں سے کیے گئے وعدے کے مطابق گورنر اور ایڈوائزری کونسل کی سرگرمیوں، اقدامات اور پیش رفت سے میڈیا کو مسلسل آگاہ رکھا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ پشاور کے علاقے دیر کالونی میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد صوبے بھر کے سرکاری و نجی اسکولوں اور مدارس کا معائنہ کیا گیا، جس کے دوران 4049 تعلیمی اداروں میں مرمت و بحالی کی ضرورت کی نشاندہی ہوئی۔ ان اداروں کی بہتری کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔ متاثرہ اداروں کے طلبہ کو قریبی سرکاری اسکولوں میں منتقل کرنے، جماعتوں کے مطابق ان کی ایڈجسٹمنٹ اور ضرورت پڑنے پر دوسری شفٹ شروع کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے، تاکہ بچوں کی تعلیم کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔ثمر ہارون بلور نے کہا کہ دیر کالونی واقعے کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں اور اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ جلد میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائے گی۔ متعلقہ محکموں اور تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز (ٹی ایم ایز) کی ذمہ داریوں کا تعین کرنے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی بھی کام کر رہی ہے، تاکہ عمارتوں کی منظوری، معائنے اور نگرانی کے عمل میں ممکنہ غفلت کا تعین کیا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا پولیس کے حوالے آٹھ جدید بکتر بند گاڑیاں کی گئی ہیں، جبکہ آئندہ پانچ سے چھ ہفتوں کے دوران پولیس کے انفراسٹرکچر اور استعدادِ کار کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایک مؤثر منصوبہ تیار کیا جائے گا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اہلکاروں کی قربانیوں اور بہادری کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیس کو جدید وسائل، آلات اور بہتر سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔صحت کارڈ کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ پروگرام میں موجود داخلی بے ضابطگیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم اسے بند یا منسوخ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز کی کارکردگی، انتظامی امور اور ان کے بورڈز میں شامل افراد کی پیشہ ورانہ اہلیت کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اہم عہدوں پر تقرریاں سیاسی وابستگی، رشتہ داری یا ذاتی تعلقات کے بجائے میرٹ اور پیشہ ورانہ قابلیت کی بنیاد پر ہونی چاہئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اصلاحاتی اقدامات میں سیاسی انتقام کے بجائے کارکردگی اور پیشہ ورانہ معیار کو ترجیح دی جائے گی۔تجاوزات کے خلاف جاری مہم کے حوالے سے ثمر ہارون بلور نے کہا کہ سرکاری اراضی، گرین بیلٹس اور نکاسی آب کے نظام پر غیر قانونی قبضوں کے خاتمے کے بغیر پشاور میں ٹریفک اور سیوریج کے مسائل حل کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی بلاامتیاز جاری ہے اور کسی کو سفارش یا سیاسی وابستگی کی بنیاد پر رعایت نہیں دی جا رہی۔ تجاوزات کے خاتمے کے بعد ان مقامات کی بحالی اور تزئین و آرائش بھی کی جائے گی، تاکہ انہیں عوام کے لیے مزید مفید بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اربن سینیٹیشن اور واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنی کی کارکردگی میں بہتری آ رہی ہے اور صفائی کا عملہ رات گئے تک خدمات انجام دے رہا ہے۔ پشاور میں عرصہ دراز سے جمع شدہ کچرے کی صفائی جاری ہے، جبکہ ویسٹ کلیکشن کا ایک جامع منصوبہ بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ مین ہولز کے ڈھکنوں اور ڈسٹ بنز کی کمی دور کرنے کے ساتھ ساتھ ان سہولیات کی مستقل دستیابی اور حفاظت یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔نوجوانوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ زلمی مدرسہ لیگ اختتام پذیر ہو چکی ہے، جبکہ خیبر ٹی وی کے تعاون سے نوجوانوں کے لیے ایک اور مثبت اور تعمیری سرگرمی کا جلد اعلان کیا جائے گا۔ڈیجیٹل گورننس کے حوالے سے ثمر ہارون بلور نے بتایا کہ قانونی امور کے مشیر عامر جاوید کی کوششوں سے مختلف اداروں کو ان کے متعلقہ دائرہ کار اور اختیارات کے مطابق ایک مشترکہ ڈیجیٹل پورٹل پر یکجا کیا گیا ہے، جو فعال ہو چکا ہے۔ اس پلیٹ فارم میں محکمہ اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور، خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن، انسانی حقوق کمیشن، صوبائی محتسب، رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن، رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن، خیبر پختونخوا بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ، صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ، ڈائریکٹوریٹ آف اینٹی کرپشن، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور محکمہ محنت و انسانی وسائل کی خدمات شامل ہوں گی۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کو ایک ہی پلیٹ فارم کے ذریعے شکایات درج کرانے اور متعلقہ اداروں کی خدمات تک رسائی فراہم کرنا ہے۔سیاسی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی تاحال پروٹیکٹو کسٹڈی میں ہیں۔ ان کے مطابق اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات سے متعلق دستیاب شواہد یکجا کیے جا رہے ہیں اور تحقیقات کی روشنی میں مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔مولانا فضل الرحمٰن کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے ثمر ہارون بلور نے کہا کہ مولانا ایک سینئر اور قابلِ احترام سیاست دان ہیں، تاہم ان کے حالیہ بیانات میں سیاسی ناراضی اور جھنجھلاہٹ کے آثار نمایاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے دور سے متعلق کرپشن کے الزامات اور بعض قریبی افراد کے حوالے سے سامنے آنے والے معاملات کی تحقیقات ضروری ہیں۔ ان کے خیال میں موجودہ ٹیکنوکریٹ سیٹ اَپ میں مطلوبہ سیاسی کردار نہ ملنا بھی مولانا فضل الرحمٰن کی ناراضی کی ایک وجہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت مولانا فضل الرحمٰن کی مثبت تجاویز اور رہنمائی کا خیرمقدم کرے گی اور کسی بھی غلطی کی نشاندہی کو بھی خوش دلی سے قبول کیا جائے گا۔ تاہم حکومت کے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے مفاد کا تحفظ، ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور تمام معاملات کو مناسب ادارہ جاتی طریقہ کار کے تحت آگے بڑھانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔آخر میں ثمر ہارون بلور نے کہا کہ ’’بدلتا، نکھرتا اور مضبوط خیبر پختونخوا‘‘ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ بہتر طرزِ حکمرانی، ادارہ جاتی اصلاحات، شفافیت، احتساب اور عوامی خدمت کا ایک عملی وژن ہے، جس کی تکمیل کے لیے تمام اہم شعبوں میں اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
