حکومت آسٹریلیا کے تعاون سے جاری منصوبے کے اثرات کے جائزے کے سلسلے میں آسٹریلیا کے محکمہ پرائمری انڈسٹریز اینڈ ریجنل ڈیولپمنٹ کے پرنسپل ریسرچ سائنٹسٹ ڈاکٹر طاہر خورشید نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں سیکرٹری زراعت ڈاکٹر محمد بختیار خان بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران ڈاکٹر طاہر خورشید نے زرعی تحقیقی ادارہ ترناب میں ترشاوہ پھلوں کے پروگرام بارے شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترناب فارم کے سائنسدانوں نے منصوبے کے تحت حاصل ہونے والی ترشاوہ پھلوں کی اقسام پر نہایت مؤثر اور کامیاب انداز میں کام کیا گیاہے۔ انہوں نے بتایا کہ ادارے کے سائنسدانوں نے مالٹے کی متعدد اقسام کی منظوری حاصل کرکے ان کی کاشت کے فروغ کے لیے کسانوں میں تقسیم کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔
ڈاکٹر طاہر خورشید نے مزید بتایا کہ منصوبے کے تحت حاصل کیے گئے کو بھی پراونشل سیڈ کونسل سے منظور کروا کر رجسٹرڈ نرسریوں تک ان کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق زرعی تحقیقی ادارہ ترناب کے سائنسدان اب تک ترشاوہ پھلوں کی 13 اقسام کی منظوری حاصل کر چکے ہیں اور یہ اقسام کاشتکاروں کو فراہم کی جا رہی ہیں، جس سے صوبے میں ترشاوہ پھلوں کی پیداوار اور معیار میں مزید بہتری آئے گی۔
اس موقع پر ڈاکٹر طاہر خورشید نے مشیر زراعت کو یقین دہانی کرائی کہ وہ مستقبل میں ترشاوہ پھلوں کے اور جاپانی پھل کی جدید اقسام بھی فراہم کریں گے تاکہ صوبے میں باغبانی کے شعبے کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ مشیر زراعت اور محکمہ زراعت کے حکام نے اس تعاون پر ڈاکٹر طاہر خورشید اور آسٹریلوی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔قبل ازیں ڈاکٹر طاہر خورشید نے منصوبے کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے زرعی تحقیقی ادارہ ترناب پشاور کا دورہ کیا۔ اس موقع پر سینئر ڈائریکٹر زرعی تحقیقی ادارہ ترناب ڈاکٹر عبدالباری اور پرنسپل ریسرچ آفیسر نثار نعیم بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر طاہر خورشید نے ادارے کے مختلف تحقیقی منصوبوں اور خصوصاً ترشاوہ پھلوں کے پروگرام کا تفصیلی جائزہ لیا۔
