مشیر زراعت میاں محمد عمر کی صدارت میں ضلع سوات میں کھلی کچہری کا انعقاد، زمینداروں کے مسائل کا حل صوبائی حکومت اور محکمہ زراعت کی اولین ترجیح قرار

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر کاکا خیل کی زیر صدارت ضلع سوات میں محکمہ زراعت سوات کے دفتر میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری میں اراکین صوبائی اسمبلی فضل حکیم خان، سلطان روم خان، اختر خان ایڈوکیٹ، محکمہ زراعت کے افسران، کسانوں، سیاسی و سماجی شخصیات، معززین علاقہ اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔کھلی کچہری کے دوران شرکاء نے ضلع سوات میں زرعی شعبے کو درپیش مسائل، ترقیاتی ضروریات، کسانوں کے تحفظات، شکایات اور مختلف تجاویز سے مشیر زراعت کو آگاہ کیا۔ مشیر زراعت میاں محمد عمر نے تمام مسائل و تجاویز کو توجہ سے سنا اور متعدد شکایات کے فوری ازالے کے لیے موقع پر ہی متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کیں جبکہ دیگر معاملات کو قانونی اور انتظامی کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کے سپرد کرتے ہوئے ان پر جلد پیش رفت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے مشیر زراعت میاں محمد عمر نے کہا کہ زمینداروں کے مسائل کا حل صوبائی حکومت اور محکمہ زراعت کی اولین ترجیح ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کسان دوست پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اور زرعی شعبے کی ترقی، جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور کاشتکاروں کی خوشحالی کے لیے مؤثر اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسان ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے ان کے مسائل کا بروقت حل حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔میاں محمد عمر کاکا خیل نے واضح کیا کہ محکمہ زراعت میں کرپشن کے لیے کوئی گنجائش نہیں اور کسی بھی سرکاری افسر یا اہلکار کی بدعنوانی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کسانوں سے درخواست کی کہ اگر کوئی افسر یا اہلکار رشوت طلب کرے تو وہ فوری طور پر ان کے ای منسٹر پورٹل یا دفتر میں شکایت درج کرائیں تاکہ ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت اور بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ضلع سوات میں مختلف زرعی منصوبوں کے لیے درخواستیں جمع کرانے والے کسانوں کے کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے اور فنڈز کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے محکمہ زراعت کے افسران کو ہدایت کی کہ کسانوں کو درپیش مسائل کے حل، زرعی خدمات کی بہتری اور حکومتی سہولیات کی بروقت فراہمی کے لیے مربوط اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔علاؤہ ازیں مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر نے ایگریکلچر ریسرچ انسٹیٹیوٹ مینگورہ، سوات کا دورہ کیا جہاں پر مشیر زراعت میاں محمد عمر نے جدید مالیکیولر پلانٹ لیبارٹری کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ یہ لیبارٹری زرعی تحقیق کو جدید خطوط پر استوار کرنے، بیماریوں سے محفوظ اور زیادہ پیداوار فصلوں کی اقسام کی تیاری میں اہم کردار ادا کرے گی۔ مشیر زراعت نے ادارے کے مختلف تحقیقی سیکشنز کا تفصیلی معائنہ کیا اور جاری تحقیقی سرگرمیوں، زرعی منصوبوں اور ادارے کی مجموعی کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ حاصل کی۔ دورے کے دوران متعلقہ حکام نے مشیر زراعت کو جدید زرعی تحقیق، فصلوں کی بہتر اقسام کی تیاری، کاشتکاروں کو فراہم کی جانے والی تکنیکی معاونت اور جاری ترقیاتی منصوبوں سے آگاہ کیا۔ میاں محمد عمر نے ادارے کی تحقیقی کاوشوں کو زرعی شعبے کی ترقی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید تحقیق اور ٹیکنالوجی کے فروغ سے زرعی پیداوار میں اضافہ اور کسانوں کی آمدن بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ میاں محمد عمر نے ادارے میں جاری تعمیراتی کاموں کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ معیار اور ٹائم لائن کے مطابق مکمل کیے جائیں تاکہ تحقیقی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔اس سے قبل مشیر زراعت نے محکمہ زراعت توسیع سوات کے دفتر میں اجلاس کی صدارت بھی کی، جس میں محکمہ زراعت سوات کے مختلف ونگز متعلقہ ڈائریکٹرز اور افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ زراعت کی مجموعی کارکردگی، جاری ترقیاتی منصوبوں اور کسانوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ میاں محمد عمر کاکا خیل نے محکمہ زراعت کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ صرف دفتری امور تک محدود نہ رہیں بلکہ باقاعدگی سے فیلڈ کے دورے کریں، کسانوں سے براہِ راست رابطہ رکھیں، ان کے مسائل سے آگاہی حاصل کریں اور شکایات کا فوری اور مؤثر ازالہ یقینی بنائیں تاکہ زرعی شعبے کو مزید مضبوط اور کسانوں کو حکومتی سہولیات کا حقیقی فائدہ پہنچایا جا سکے۔

مزید پڑھیں