سی سی آر آئی پیرسباق نوشہرہ میں سپیڈ بریڈنگ فیسلٹی اور زیتون سے تیل نکالنے کے سیزن کا افتتاح

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر نے سیریل کراپس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سی سی آر آئی) پیرسباق نوشہرہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ادارے میں جاری زرعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور مختلف ترقیاتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران مشیر زراعت نے اسپیڈ بریڈنگ فیسلٹی کا افتتاح کیا جبکہ زیتون سے تیل نکالنے کے رواں سیزن اور شجرکاری مہم کا بھی باقاعدہ آغاز کیا۔ اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی زر عالم خان، ڈائریکٹر جنرل زراعت تحقیق ڈاکٹر عبدالرؤف اور پلاننگ آفیسر محکمہ زراعت نثار محمد بھی موجود تھے۔اس موقع پر مشیر زراعت نے کہا کہ اسپیڈ بریڈنگ فیسلٹی گندم کے بریڈنگ پروگرام کو تیز کرنے، نئی و بہتر اقسام کی تیاری اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ فصلوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ جدید سہولت کے ذریعے کم وقت میں بہتر پیداواری صلاحیت رکھنے والی اقسام تیار کرنے میں مدد ملے گی، جس سے صوبے میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کی کوششوں کو مزید تقویت حاصل ہوگی۔میاں محمد عمر نے زیتون سے تیل نکالنے کے رواں سیزن کا بھی افتتاح کیا اور جدید طریقہ کار کے تحت زیتون کی پراسیسنگ اور خالص و معیاری زیتون کا تیل تیار کرنے کے عمل کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو خالص اور معیاری زیتون کا تیل فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر زیتون کی ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، جس سے کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ اور زرعی معیشت کو مستحکم کیا جاسکتا ہے۔ مشیر زراعت میاں محمد عمر نے مزید کہا کہ محکمہ زراعت کے ذیلی دفاتر میں امور کی انجام دہی کا جائزہ لینے کے لئے سرپرائز دوروں کا سلسلہ شروع کررہا ہوں۔ محکمے کی بہتری کے لئے سب کو ملکر کام کرنا ہوگا۔مشیر زراعت نے سی سی آر آئی پیرسباق نوشہرہ میں پودا لگا کر شجرکاری مہم کا بھی آغاز کیا۔ اس موقع پر ماحول کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور زرعی تحقیقی اداروں میں سرسبز ماحول کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا گیا۔اس موقع پر ڈائریکٹر سی سی آر آئی پیرسباق نوشہرہ مفتاح الدین نے مشیر زراعت کو ادارے کی مجموعی کارکردگی، جاری تحقیقی سرگرمیوں، مختلف فصلوں کے بریڈنگ پروگرامز، غلہ دار اجناس کی نئی اقسام، معیاری بیج کی پیداوار اور جدید زرعی ٹیکنالوجیز کے استعمال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہیں گندم، مکئی اور دیگر اہم فصلوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے، جدید اقسام کی تیاری اور تحقیقی نتائج کاشتکاروں تک منتقل کرنے کے لیے جاری اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔میاں محمد عمر نے ادارے کے سائنسدانوں اور تحقیقی عملے کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ زرعی تحقیق کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا، جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ بڑھانا اور تحقیق کے نتائج کو عملی طور پر کاشتکاروں تک پہنچانا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید زرعی تحقیق، تیز رفتار بریڈنگ پروگرامز اور بہتر پیداواری اقسام کی تیاری نہ صرف فصلوں کی پیداوار میں اضافے کا ذریعہ بن سکتی ہے بلکہ غذائی تحفظ، کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافے اور صوبے میں زرعی شعبے کی پائیدار ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گی۔

مزید پڑھیں