مشیر زراعت و پرو چانسلر یونیورسٹی آف ایگریکلچر سوات میاں محمد عمر کی زیر صدارت یونیورسٹی آف ایگریکلچر سوات کا پانچواں سینٹ اجلاس منعقد ہوا، جس میں یونیورسٹی کے مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری زراعت ڈاکٹر محمد بختیار خان، وائس چانسلر یونیورسٹی آف ایگریکلچر سوات ڈاکٹر داؤد جان سمیت سینٹ کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔ سینٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مشیر زراعت و پرو چانسلر یونیورسٹی آف ایگریکلچر سوات میاں محمد عمر نے کہا کہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر سوات پہاڑی زراعت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں زرعی شعبے کی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں، جن سے استفادہ کرنے کے لیے جدید زرعی تحقیق، ٹیکنالوجی اور سائنسی طریقہ ہائے کاشت کو فروغ دینا ضروری ہے۔سینٹ اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے لیے 501 ملین روپے سے زائد کا بجٹ پیش کیا گیا، جس پر سینٹ اراکین نے تفصیلی غور و خوض کیا۔ بجٹ کے مختلف پہلوؤں اور یونیورسٹی کی ضروریات کا جائزہ لینے کے بعد اسے منظور کرلیا گیا۔سینٹ اجلاس میں مالی سال 2025-26 کے اخراجات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور یونیورسٹی کے مالی امور، اخراجات اور وسائل کے استعمال سے متعلق مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔اجلاس کے دوران یونیورسٹی کے تھرڈ پارٹی آڈٹ کی تفصیلی رپورٹ بھی پیش کی گئی، جس کا جائزہ لیتے ہوئے مالی شفافیت اور انتظامی امور سے متعلق مختلف نکات پر غور کیا گیا۔ سینٹ اجلاس میں یونیورسٹی آف ایگریکلچر سوات کی سالانہ رپورٹ برائے سال 2024-25 بھی سینٹ کے سامنے پیش کی گئی، جس میں یونیورسٹی کی تعلیمی، تحقیقی سرگرمیوں اور کارکردگی کی تفصیلات شامل تھیں۔میاں محمد عمر نے اجلاس میں مزید کہا کہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر سوات کو پہاڑی علاقوں کی زرعی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیق پر خصوصی توجہ دینی چاہیے تاکہ مقامی کسانوں کو جدید زرعی طریقوں، بہتر بیجوں، موسمی حالات سے مطابقت رکھنے والی فصلوں اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی جامعات اور تحقیقی ادارے صوبے میں زرعی پیداوار بڑھانے، کسانوں کی آمدن میں اضافے اور زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حکومت خیبر پختونخوا زرعی شعبے کی ترقی اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، جبکہ یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کے درمیان مؤثر روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
