وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے محکمہ زراعت میاں محمد عمر کی زیر صدارت محکمہ زراعت کا اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ زراعت کے مختلف ونگز کی کارکردگی، جاری اصلاحات، مستقبل کے منصوبوں اور درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری زراعت ڈاکٹر محمد بختیار خان، اسپیشل سیکرٹریز، محکمہ زراعت کے مختلف ونگز کے ڈائریکٹر جنرلز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران مشیر زراعت میاں محمد عمر کو زراعت توسیع، زراعت ریسرچ، آن فارم واٹر مینجمنٹ ، سائل کنزرویشن سمیت محکمہ زراعت کے مختلف ونگز کے امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ محکمانہ سرگرمیوں، ترقیاتی منصوبوں اور جاری اصلاحاتی اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر زراعت میاں محمد عمر نے بیورو آف ایگریکلچر انفارمیشن کی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ کسانوں کو زرعی امور، جدید کاشتکاری، موسمی تبدیلیوں، فصلوں کی دیکھ بھال اور حکومتی زرعی اقدامات سے متعلق مؤثر آگاہی فراہم کرے تاکہ زمیندار جدید زرعی معلومات سے مستفید ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت میں شفافیت اولین ترجیح ہے۔ تمام امور میں میرٹ، جوابدہی اور مؤثر نظام کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے ڈائریکٹر جنرلز کو ہدایت کی کہ وہ اضلاع کے ساتھ اپنے روابط مزید بہتر بنائیں اور فیلڈ سطح پر مسائل کے حل کیلئے مربوط حکمت عملی اختیار کریں۔میاں عمر نے کہا کہ محکمہ زراعت کی بہتری اور کسانوں کی فلاح کیلئے دن رات کام کیا جائے گا موجودہ وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے مزید بہتر نتائج حاصل کئے جائیں گے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ زمینداروں کے مسائل، تجاویز اور شکایات کو سنجیدگی سے سنا جائے اور ان کے حل کیلئے عملی اقدامات کئے جائیں۔اجلاس میں زرعی شعبے کی ترقی سے متعلق مختلف اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جن میں زعفران کی کاشت کے فروغ، بائیو فرٹیلائزرز کے استعمال، کیڑے مار ادویات کے کم استعمال اور ماحول دوست زرعی طریقوں کے فروغ پر خصوصی گفتگو شامل تھی۔ اس کے علاوہ سالانہ ترقیاتی پروگرام 2025-26 کے مختلف منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔مشیر زراعت نے زرعی اراضی پر ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے قیام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زرعی زمینوں کا تحفظ ناگزیر ہے اور اس حوالے سے مؤثر روک تھام کے اقدامات اور پالیسی معاملات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔اجلاس میں محکمہ زراعت میں جاری اصلاحات، تبادلوں میں شفافیت، پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم، سمارٹ حاضری نظام، فارم سروسز سینٹرز، سمارٹ زرعی پالیسی پر نظرثانی اور محکمہ کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ مشیر زراعت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ زراعت کو مزید فعال، شفاف اور کسان دوست ادارہ بنایا جائے گا تاکہ صوبے میں زرعی ترقی اور کسانوں کی خوشحالی کے اہداف حاصل کئے جا سکیں۔
