
مشیر اوقاف، مذہبی و اقلیتی امور مولانا طیب قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کے قیام اور اس کی حفاظت میں علماء کرام اور دینی مدارس نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ دینی مدارس کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، جبکہ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر جدید علوم اور ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعیت طلبہ عربیہ کے زیر اہتمام ”بدلتی دنیا میں مدارس کا کردار“ کے موضوع پر پشاور میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار میں مفتی محمد اسماعیل، منتظم اعلیٰ جمعیت طلبہ عربیہ اعجاز الحق، مفتی محمد عسکر اور طلباء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔مولانا طیب قریشی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے چیلنج سے انکار نہیں کیا جاسکتا، تاہم اس ناسور سے نجات حاصل کرنے کے لیے پوری قوم کو متحد ہوکر مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی۔ جنگیں قومیں مل کر لڑتی ہیں اور دہشت گردی کے خلاف کامیابی بھی اجتماعی کوششوں، اتحاد اور باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن کے بغیر ترقی کا تصور ممکن نہیں، اس لیے صوبے میں پائیدار امن کے قیام اور ترقی کے لیے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔مشیر اوقاف نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے اور صوبے کو اس حوالے سے ایک مثالی ماڈل بنائیگے۔ مدارس اور مساجد کے مسائل کے حل اور بہتری کے لیے بھی بھرپور اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ مدارس کے طلباء کی استعداد کار بڑھانے کے لیے مختلف منصوبے متعارف کرائے جا رہے ہیں، جن میں طلباء کے لیے لیپ ٹاپ اسکیم بھی شامل ہے۔ اس اسکیم میں تمام مدارس بورڈز کو حصہ دیا جائے گی تاکہ مدارس کے طلباء بھی جدید ٹیکنالوجی سے مستفید ہو سکیں اور بدلتے ہوئے دور کے تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکیں۔مولانا طیب قریشی نے کہا کہ دینی مدارس کی افادیت سے انکار کرنے والے دراصل ان کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔ مدارس دینی تعلیم و تربیت کے اہم مراکز ہیں، تاہم اپنے پیغام کو مؤثر انداز میں دوسروں تک پہنچانے اور عصر حاضر کے تقاضوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید علوم سے واقفیت بھی ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ فرسودہ سوچ سے نکل کر ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو تسلیم کرنا اور علم کے مختلف شعبوں میں آگے بڑھنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ قرآن کریم ہماری رہنمائی کا بنیادی سرچشمہ ہے، اس کی تعلیمات کی روشنی میں علم، تحقیق، کردار سازی اور معاشرتی اصلاح کے ذریعے ترقی کی منازل طے کی جاسکتی ہیں۔ دینی مدارس کے طلباء کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور انہیں زندگی کے مختلف شعبوں میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت مدارس اور مساجد کی بہتری اور طلباء کی استعداد کار میں اضافے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔سیمنار سے مفتی محمد اسماعیل، مفتی محمد عسکر، منتظم اعلی جمعیت طلبہ عربیہ اعجاز الحق و دیگر نے بھی خطاب کیا اور بدلتی دور میں مدارس کے کردار پر روشنی ڈالی۔ سیمنار کے اختتام پر مشیر اوقاف مولانا طیب قریشی کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔
