عثمان سیف اللہ خان ممبر ایڈوائزری کونسل کی زیر صدارت توانائی و بجلی اصلاحات سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس کا انعقاد

پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس عثمان سیف اللہ خان، ممبر ایڈوائزری کونسل کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں پیڈو کے گورننس ڈھانچے، آپریشنل پورٹ فولیو، جاری منصوبوں، وفاق سے متعلق امور اور صوبائی توانائی خودمختاری کے لیے آئندہ کے اصلاحاتی روڈ میپ کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں پیڈو کی گورننس اور تنظیمی ساخت، عملے کی صورتحال، مکمل شدہ اور زیر تعمیر ہائیڈرو پاور منصوبوں سمیت مجموعی انرجی پورٹ فولیو، بجلی کی پیداوار اور گزشتہ برسوں کی کمرشل کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر جاری ہائیڈرو پاور منصوبوں کی حیثیت، ٹائم لائنز، توسیع اور فزیکل پیش رفت پر بریفنگ دی گئی اور تاخیر کی بنیادی وجوہات جیسے زمین کے مسائل، سیلاب، سیکیورٹی مشکلات اور ارضیاتی حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ منصوبہ جاتی علاقوں میں کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی کے تحت کمیونٹی انفراسٹرکچر، صحت و تعلیم کی سہولیات، رسائی سڑکوں اور دیگر فلاحی اقدامات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔پاور معاہدوں، منصوبوں کی منتقلی، نجی ہائیڈرو پاور منصوبوں کے لیے ٹیرف نوٹیفکیشن، آئی جی سی ای پی میں شمولیت، انکم ٹیکس معاملات اور ٹھیکیداروں کے لیے سیکیورٹی کلیئرنس سے متعلق وفاق سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ زیر التوا وفاقی منظوریوں بشمول پاور ایکوزیشن، ٹیرف نوٹیفکیشن اور اہم ہائیڈرو پاور منصوبوں کے کمٹڈ سٹیٹس کی بحالی کے لیے بروقت حل کی ضرورت پر زور دیا گیا۔اجلاس میں پیڈو کے قابل تجدید توانائی پورٹ فولیو کا بھی جائزہ لیا گیا جس میں منی/مائیکرو ہائیڈرو پاور منصوبے، متاثرہ سائٹس کی سیلاب بحالی، اور سکولوں، صحت مراکز، مساجد، گھروں، سرکاری عمارتوں اور منی گرڈز کے لیے سولرائزیشن اقدامات شامل ہیں۔بریفنگ میں توانائی میں خودمختاری کے لیے صوبائی پاور سیکٹر اصلاحات کے روڈ میپ پر بھی بات ہوئی جس میں صوبائی ٹرانسمیشن اور گرڈ سسٹم کا قیام، صوبائی انرجی ریگولیٹری اتھارٹی، صوبائی ڈسٹری بیوشن کمپنی، اور سستی توانائی کی فراہمی اور صوبائی آمدن میں اضافے کے لیے وہیلنگ اور ڈائریکٹ سپلائی سمیت کمرشلائزیشن ماڈلز شامل ہیں۔ عثمان سیف اللہ خان نے پیش رفت کو سراہا اور ہدایت کی کہ جاری ہائیڈرو پاور منصوبوں کی تکمیل میں تیزی لائی جائے، متعلقہ وفاقی وزارتوں اور ریگولیٹرز کے ساتھ رابطے کے ذریعے وفاقی مسائل کے حل کو تیز کیا جائے، سولرائزیشن اور سیلاب بحالی کے کاموں میں تیزی لائی جائے اور صوبے کے لیے پائیدار، سستی اور گرین انرجی کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی پاور اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جائے۔

مزید پڑھیں