خیبر پختونخوا میں بچیوں کی تعلیم اور آؤٹ آف سکول بچوں کی بحالی کیلئے آئی ایل ایمپکٹ پروگرام کی پیش رفت قابلِ تحسین قرار

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان کی زیر صدارت آئی ایل ایمپکٹ پروگرام کی چوتھی سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد خالد سپیشل سیکرٹری ڈویلپمنٹ مسعود احمد، اسٹیئرنگ کمیٹی کے اراکین، جبکہ برٹش کونسل کی جانب سے پراجیکٹ مینیجر خیبر پختونخوا محمد الماس خان اور ایم ای ایل لیڈ رضوان نے شرکت کی۔اجلاس میں آئی ایل ایمپکٹ پروگرام کی مجموعی پیش رفت، جاری سرگرمیوں اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر پروگرام انتظامیہ کی جانب سے تفصیلی پریزنٹیشن دی گئی جس میں بتایا گیا کہ ایف سی ڈی او کے مالی تعاون سے جاری یہ پروگرام برٹش کونسل کے ذریعے صوبے کے 8 اضلاع میں نافذ کیا جا رہا ہے۔ پروگرام کا بنیادی فوکس بچیوں کی تعلیم، آؤٹ آف سکول بچوں کی نشاندہی، ان کی سکولوں تک رسائی، تعلیمی معیار میں بہتری اور طلبہ کی سکولوں میں برقرار رکھنے کی شرح میں اضافہ ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پروگرام کے تحت “ریمیڈیل لرننگ ماڈل” کو بنیادی جزو کے طور پر نافذ کیا جا رہا ہے، جس کا نصاب ایف ایل ایم پالیسی سے ہم آہنگ ہے۔ اس ماڈل کے ذریعے ان بچوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جو Learning Poverty اور بنیادی تعلیمی کمزوریوں کے باعث پیچھے رہ جاتے ہیں۔ Teaching at the Right Level (TaRL) اپروچ کے تحت ڈائریکٹوریٹ آف پروفیشنل ڈویلپمنٹ کے تعاون سے ہدف اضلاع میں ماسٹر ٹرینرز اور اساتذہ کی تربیت کی گئی، جبکہ اساتذہ کو مسلسل مینٹورنگ سپورٹ اور تدریسی مواد بھی فراہم کیا گیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ اساتذہ نے تربیت کے بعد بچوں کی باقاعدہ تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کیا، جبکہ طلبہ کے تعلیمی نتائج اور اسسمنٹ سکوز کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں بچوں کے Learning Levels میں نمایاں بہتری سامنے آئی، جسے اسٹیئرنگ کمیٹی نے سراہا۔وزیر تعلیم ارشدایوب خان اور سیکرٹری تعلیم محمد خالد نے ریمیڈیل لرننگ ماڈل کو صوبے کے دیگر پرائمری سکولوں تک توسیع دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بڑٹش کونسل ڈائریکٹوریٹ آف پروفیشنل ڈویلپمنٹ کے ساتھ مل کر سمر زون اضلاع میں اساتذہ کی ٹی اے آر ایل ماڈل پر تربیت کیلئے جامع منصوبہ تشکیل دے تاکہ جون کے دوران گرمیوں کی تعطیلات میں اساتذہ کی استعداد کار میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ پروگرام کے ذریعے ہدفی اضلاع میں 80 ہزار سے زائد بچے مستفید ہو رہے ہیں جن میں 70 فیصد تعداد بچیوں کی ہے۔ اسی طرح Catch-up Learning Camps کے ذریعے 13 ہزار 375 آؤٹ آف سکول بچوں کی نشاندہی کرکے انہیں دوبارہ سکولوں میں داخل کیا گیا ہے۔اسٹیئرنگ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ سکولوں میں Activity-Based Learning کے فروغ کیلئے تدریسی و تعلیمی مواد فراہم کیا گیا ہے، جبکہ بچوں کی Disability Screening بھی کی گئی جس کے ذریعے Functional Limitations کی نشاندہی کرکے خصوصی معاون آلات فراہم کیے گئے۔ اس اقدام کو اجلاس کے شرکاء نے خصوصی طور پر سراہا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ آئی ایل ایمپکٹ پروگرام کے تحت سکولوں کو محفوظ، جامع اور معذور دوست بنانے کیلئے PTCs کے تعاون سے انفراسٹرکچر میں بہتری کے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔ مزید برآں School Safeguarding Framework بھی تیار کر لیا گیا ہے، جس کے تحت ہیڈ ٹیچرز اور اساتذہ کو تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ سکول آنے والے بچے خود کو محفوظ محسوس کریں اور بہتر تعلیمی ماحول میں اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ اس اقدام کو بچوں کے سکولوں میں برقرار رکھنے کیلئے اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے اسٹیئرنگ کمیٹی نے اس کی توثیق کی۔
اسٹیئرنگ کمیٹی نے پروگرام کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس کے مثبت نتائج کو سراہا اور پروگرام کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر، پائیدار اور صوبہ بھر میں وسعت دینے کیلئے باہمی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

مزید پڑھیں