خیبر پختونخواکے وزیر برائے ابتدائی وثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے منگل کے روز ضلع مردان کے میٹرک کے مختلف امتحانی مراکز کا دورہ کیا۔ وہ ڈگری کالج مردان، گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مردان،گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول نمبر ایک مردان اور گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج آف کامرس مردان کے امتحانی مراکز گئے۔ اس موقع پر چیئرمین مردان بورڈ جہانزیب خان اور دیگر افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد صوبے کے بچوں کو تعلیمی سہولیات فراہم کر تے ہوئے نقل جیسے ناسور ختم کو کرنا ہے اور موجودہ صوبائی حکومت کی یہ اولین ترجیح میں شامل ہے۔اس موقع پر صوبائی وزیر نے ہالوں میں طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں آگاہی بھی حاصل کی۔ انہوں نے بورڈ کے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کہ وہ ہالوں میں صاف پینے کی پانی اور بہتر روشنی کی دستیابی سمیت طلبہ کی کرسیوں کا مناسب فاصلہ رکھنے کے حوالے سے اقدامات کو یقنی بنائیں۔ اسی طرح بورڈ کے عملہ کی ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو روزانہ کی بنیاد پر میٹرک کے امتحانات کے مراکز کا دورہ کریں اور اپنی رپورٹ مرتب کریں۔ صوبائی وزیر نے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مردان کے ہال نمبر دو میں سستی برتنے پر امتحانی عملہ کے خلاف کارروائی کرنے کی بھی ہدایت کی۔ درین اثناء صوبائی وزیر نے ضلع مردان کے تعلیمی بورڈ کا بھی دورہ کیا اور وہاں پر قائم عوامی شکایات کے ازالے کے لیے کنٹرول روم کا معائنہ کیا۔ صوبائی وزیر نے اس حوالے سے اٹھائے گئے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امتحانی مراکز میں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ نہیں ہو نا چاہئے اور مراکز کی انسپیکشن کرنے والے افسران کے ساتھ گارڈ حال میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے ہمیں چاہیے کہ نقل کے ناسور کاجڑ سے خاتمہ ہو اور جہاں کہیں بھی خامیاں اور کمزوریاں ہوں ان کے حل کے لیے مکمل اقدامات اٹھائے جائیں۔صوبائی وزیر نے بورڈ انتظامیہ سے کہا کہ نقل کرنے والے بچوں پر کیس بنائے جائیں اور ان کو ہال سے باہر نکالیں تاکہ امتحانی عمل کی شفافیت کے ذریعے نظام کو بہتر بنایا جا سکے
