خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کی زیرِ صدارت ودودیہ ہال سیدو شریف سوات میں منشیات کے خاتمے سے متعلق کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔

کھلی کچہری میں اراکین صوبائی و قومی اسمبلی فضل حکیم خان،چئیرمین ڈیڈک اختر خان ایڈووکیٹ، سلطان روم اور سلیم الرحمن، سیکرٹری ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول خالد الیاس، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن، ریجنل پولیس آفیسر ملاکنڈ ڈویژن، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سوات، دیگر سرکاری افسران، مختلف سیاسی و سماجی شخصیات، معززین علاقہ اور شہریوں نے شرکت کی۔کھلی کچہری کے دوران شرکاء نے صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول کو ملاکنڈ ڈویژن بالخصوص ضلع سوات میں منشیات کے خاتمے سے متعلق اپنے مسائل، شکایات اور تجاویز سے آگاہ کیا۔ صوبائی وزیر نے عوامی آراء کو بغور سنا، بعض شکایات کے فوری ازالے کے لیے متعلقہ افسران کو موقع پر ہی ہدایات جاری کیں، جبکہ دیگر معاملات کو قانونی کارروائی کے لیے نوٹ کر لیا گیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سید فخرجہان نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی چئیرمین عمران خان کے ویژن کے تحت وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل افریدی کی قیادت میں منشیات کے ناسور کے خاتمے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔محکمہ ایکسائز اس حوالے سے پوری طرح متحرک ہے اور اس حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے اور کسی بھی سرکاری افسر یا اہلکار کے ساتھ اس ضمن میں غفلت برتنے پر رعایت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر محکمہ ایکسائز یا پولیس کا کوئی افسر یا اہلکار منشیات کے کاروبار یا اس کی سرپرستی میں ملوث پایا گیا تو اسے فوری طور پر عہدے سے ہٹا کر اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ منشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز اور بلاخوف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں، جبکہ صوبائی حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔صوبائی وزیر نے کمشنر ملاکنڈ ڈویژن کو ہدایت کی کہ پورے ملاکنڈ ڈویژن میں منشیات فروشوں کے خلاف جامع حکمت عملی اور ایک مؤثر ایکشن پلان تیار کرکے ہمیں ارسال کیا جائے تاکہ اس لعنت کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔کھلی کچہری سے ممبر صوبائی اسمبلی فضل حکیم خان یوسفزئی نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منشیات نوجوان نسل اور معاشرے کے مستقبل کے لیے سنگین خطرہ ہیں، لہٰذا ان کے خاتمے کے لیے تمام اداروں اور عوام کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت منشیات کے خلاف جاری اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور اس سلسلے میں عوامی تعاون انتہائی اہم ہے۔

مزید پڑھیں