سول سیکریٹریٹ پشاور میں جشنِ آزادی کے سلسلے میں ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیرِ خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ 14 اگست کا دن سرکاری افسران اور سیاسی قیادت کے لیے ایک “ریزولوشن” یا عزم کا وقت ہے، جس میں یہ جائزہ لیا جانا چاہیے کہ اگلے ایک سال میں صوبے کے لیے کیا حاصل کیا جائے گا۔مشیرِ خزانہ نے کہا کہ جب موجودہ حکومت نے ذمہ داری سنبھالی تو صوبے کا خزانہ خالی تھا، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بروقت ادا کرنا مشکل ہو رہا تھا اور ترقیاتی اخراجات انتہائی کم تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کا خیبر پختونخوا مالی،
انتظامی اور طرزِ حکمرانی کے اعتبار سے اُس وقت کے مقابلے میں یکسر مختلف ہے، اور اس تبدیلی کا سہرا صوبائی حکومت، بیوروکریسی اور سب سے بڑھ کر عوام کے سر ہے۔انہوں نے بتایا کہ دو سال قبل اسٹیٹ بینک کے دورے کے دوران انہیں آگاہ کیا گیا تھا کہ خیبر پختونخوا ڈیجیٹلائزیشن کے میدان میں تمام صوبوں سے پیچھے ہے اور صرف چار سرکاری سروسز ڈیجیٹل طور پر فراہم کی جا رہی تھیں، جبکہ بلوچستان میں یہ تعداد چھ تھی۔ مشیرِ خزانہ کے مطابق آج چیف سیکرٹری کی قیادت میں 200 سے زائد سرکاری سروسز کو ڈیجیٹلائز کرنے کا ہدف مقرر کیا جا چکا ہے اور اس شعبے میں خیبر پختونخوا پورے پاکستان میں سرِفہرست آ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں کیش لیس نظام کا نفاذ بھی اسی تبدیلی کی ایک کڑی ہے۔مزمل اسلم نے کہا کہ مسلسل تبدیلی پر یقین رکھنے والا معاشرہ ہی آگے بڑھ سکتا ہے، اور یہ بات باعثِ اطمینان ہے کہ خیبر پختونخوا کی بیوروکریسی اور عوام دونوں نے تبدیلی کو قبول کیا ہے۔انہوں نے رواں سال کے بجٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا عنوان “خوشحال خیبر پختونخوا” رکھا گیا تھا، تاہم اب اس میں “صحت مند” کا اضافہ بھی ضروری ہے کیونکہ صحت کے بغیر حقیقی ترقی ممکن نہیں۔اپنے خطاب کے اختتام پر مشیرِ خزانہ نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام اور بالخصوص قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کے پیشِ نظر حکومت وسائل کی فراہمی سمیت ہر ممکن اقدام کرے گی تاکہ خیبر پختونخوا کو امن کا گہوارہ اور پاکستان میں سرمایہ کاری کا بڑا مرکز بنایا جا سکے۔تقریب میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا، انتظامی سیکرٹریز، کمشنر پشاور، ڈپٹی کمشنر پشاور و انتظامی افیسرز، دیگر اعلیٰ سرکاری حکام، طلبہ اور محکموں کے ملازمین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
