
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کی زیرِ صدارت صوبے میں اون سورس ریونیو (ٹیکس و نان ٹیکس) کی وصولیوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے محکموں کے سربراہان کے اعزاز میں محکمہ خزانہ کمیٹی روم سول سیکرٹریٹ پشاور میں تقریب منعقد ہوئی، جس میں متعلقہ محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔ تقریب میں بہترین کارکردگی دکھانے والے محکموں کے سربراہان میں تعریفی اسناد تقسیم کی گئیں۔ تقریب میں سیکرٹری خزانہ خیبرپختونخوا کیپٹن(ر) کامران احمد آفریدی، سنئیر ممبر بورڈ آف ریونیو ظاہر شاہ، ایڈیشنل انسپکٹر جنرل عباس احسن، سیکرٹری اطلاعات و تعلقات عامہ مطیع اللہ خان، سیکرٹری معدنیات ڈاکٹر محمد اصرار، سیکرٹری زراعت بختیار خان، سیکرٹری توانائی نثار احمد، سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن خالد الیاس، سیکرٹری فوڈ شاہ محمود، سیکرٹری لائیو اسٹاک اینڈ فشریز ظریف المانی، ڈائریکٹر جنرل کیپرا ارم ناز سمیت متعدد سربراہان نے شرکت کی۔
مزمل اسلم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے اپنے وسائل سے حاصل ہونے والی آمدن میں نمایاں اضافہ خوش آئند ہے، تاہم ریونیو بڑھانے کے لیے محکموں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ محکموں کے درمیان صحت مند مسابقت کی فضا قائم کرنا وقت کی ضرورت ہے، جو افسران اور ملازمین بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں انہیں نہ صرف سراہا بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کے لیے اعزازیہ بھی دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں خیبرپختونخوا کی صوبائی اون سورس ریونیو وصولیاں 150.84 ارب روپے تک پہنچ گئیں، جبکہ نظرثانی شدہ ہدف 139.77 ارب روپے تھا۔ یوں صوبے نے اپنے نظرثانی شدہ ہدف کا تقریباً 108 فیصد حاصل کیا، جبکہ اصل بجٹ ہدف 129 ارب روپے کے مقابلے میں وصولیاں تقریباً 107.9 فیصد رہیں۔
مزمل اسلم کے مطابق ٹیکس وصولیاں 87.74 ارب روپے جبکہ نان ٹیکس وصولیاں 63.10 ارب روپے رہیں۔ نان ٹیکس ریونیو کی وصولیاں نظرثانی شدہ ہدف 52.35 ارب روپے کے مقابلے میں 120.5 فیصد تک پہنچیں۔
انہوں نے کہا کہ مالی سال 2026-27 کے لیے صوبائی اون سورس ریونیو کا ہدف 182.41 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جس میں 115.93 ارب روپے ٹیکس اور 66.48 ارب روپے نان ٹیکس ریونیو شامل ہے۔ یہ گزشتہ مالی سال کے اصل بجٹ ہدف 129 ارب روپے کے مقابلے میں تقریباً 41 فیصد زیادہ ہے۔
اس موقع پر سیکرٹری خزانہ خیبرپختونخوا کیپٹن (ر) کامران احمد آفریدی نے کہا کہ صوبے کو ایک جانب ایف بی آر کی جانب سے جمع کیے گئے محصولات میں اپنے آئینی حصے کی وصولی ہوتی ہے، جبکہ دوسری جانب خیبرپختونخوا اپنے اون سورس ریونیو کے تحت ٹیکس اور نان ٹیکس محصولات بھی حاصل کرتا ہے۔
کامران احمد آفریدی نے کہا کہ صوبے کی مالی خودمختاری اور ترقی کے لیے اپنے وسائل سے حاصل ہونے والے ریونیو میں اضافہ ناگزیر ہے۔ بہترین کارکردگی دکھانے والے محکموں اور افسران کی حوصلہ افزائی سے نہ صرف ریونیو میں اضافہ ہوگا بلکہ دیگر محکموں میں بھی بہتر کارکردگی اور صحت مند مسابقت کو فروغ ملے گا۔
تقریب میں مختلف محکموں کی جانب سے ریونیو کارکردگی کا جائزہ بھی پیش کیا گیا اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران کو تعریفی اسناد سے نوازا گیا
