پیراپلیجک سینٹر پشاور میں مزید 20 بستروں کا اضافہ، یومِ آزادی کے موقع پر تاریخی سنگِ میل

پیراپلیجک سینٹر پشاور میں مریضوں کے لیے مزید 20 بستروں کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں صوبائی وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ چیئرمین بورڈ آف گورنرز پیراپلیجک سینٹر پشاور ڈاکٹر شہزاد بنگش، ری ہیبلیٹیشن ڈائریکٹر ڈاکٹر امیر زیب اور دیگر متعلقہ حکام، عملہ اور مریض بھی موجود تھے۔ری ہیبلیٹیشن ڈائریکٹر ڈاکٹر امیر زیب اور ان کی ٹیم نے صوبائی وزیرِ صحت اور دیگر معزز مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا۔ تقریب کے دوران وارڈ نمبر 3 میں ربن کاٹنے کی تقریب کے ذریعے نئے 20 بستروں کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا۔اس موقع پر ڈاکٹر امیر زیب نے پیراپلیجک سینٹر کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور مریضوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے بجٹ میں اضافے کی درخواست کی۔ انہوں نے ادارے کے فالو اَپ پروگرام کی بحالی اور زیرِ علاج مریضوں کے لیے اسکلز بلڈنگ پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ مریض بحالی کے بعد زیادہ خودمختار، باوقار اور معاشرے کا فعال حصہ بن سکیں۔صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمان نے پیش کی گئی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے پیراپلیجک سینٹر کے لیے حکومتِ خیبر پختونخوا کی جانب سے ہر ممکن تعاون اور معاونت کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صحت کے شعبے میں عوام کو معیاری، باوقار اور جامع طبی و بحالی کی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور پیراپلیجک سینٹر پشاور اس حوالے سے ایک اہم اور قابلِ فخر ادارہ ہے۔صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمان نے کہا کہ پیراپلیجک سینٹر پشاور صرف خیبر پختونخوا کے مریضوں تک محدود نہیں بلکہ ملک کے مختلف حصوں سے مریض یہاں علاج اور بحالی کی سہولیات حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں۔ سندھ، پنجاب، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت دیگر علاقوں سے بھی مریض پیراپلیجک سینٹر پشاور کا رخ کرتے ہیں، جو اس ادارے پر عوام کے اعتماد اور یہاں فراہم کی جانے والی معیاری خدمات کا واضح ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ پیراپلیجک سینٹر پشاور ملک کا ایک منفرد اور جامع ری ہیبلیٹیشن سینٹر ہے، جہاں مریضوں کو جسمانی بحالی کے ساتھ ساتھ نفسیاتی، سماجی اور پیشہ ورانہ بحالی کی سہولیات بھی ایک ہی پلیٹ فارم پر فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس ادارے کی خدمات نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے ملک کے لیے اہمیت رکھتی ہیں۔صوبائی وزیرِ صحت نے پیراپلیجک سینٹر کے عملے کی پیشہ ورانہ وابستگی، محنت اور مریضوں کی خدمت کے جذبے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کی ٹیم محدود وسائل کے باوجود مریضوں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت پیراپلیجک سینٹر کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ادارے کی مزید بہتری اور استعدادِ کار میں اضافے کے لیے تعاون جاری رکھے گی۔تقریب میں اس امر پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ حکومتِ خیبر پختونخوا کی جانب سے پیراپلیجک سینٹر کے بجٹ اور دیگر ضروری معاونت میں تعاون نے اس ادارے کو ملک بھر میں ایک منفرد مقام دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پیراپلیجک سینٹر پشاور پاکستان میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد ادارہ ہے جہاں ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ، فالج، دماغی چوٹ اور دیگر جسمانی معذوریوں کا شکار افراد کو جامع بحالی کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔نئے 20 بستروں کا اضافہ پیراپلیجک سینٹر کی استعدادِ کار میں اضافے کے ساتھ ساتھ مریضوں اور ان کے خاندانوں کے لیے امید، سہولت اور بہتر مستقبل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس اقدام سے مزید مریضوں کو بروقت داخلہ، علاج اور بحالی کی سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ یومِ آزادی کے موقع پر پیراپلیجک سینٹر میں 20 نئے بستروں کا اضافہ ایک مثبت اور بامقصد اقدام ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ آزادی کی خوشیوں کے ساتھ ساتھ حکومت عوام کو بہتر صحت اور بحالی کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھی پرعزم ہے۔تقریب 14 اگست، یومِ آزادی پاکستان کی خوشیوں کے ساتھ منعقد ہونے کے باعث پیراپلیجک سینٹر کے مریضوں، عملے اور انتظامیہ کے لیے دوہری خوشی کا موقع بن گئی۔ اس موقع پر نئے 20 بستروں کے اضافے کو ادارے کی تاریخ میں ایک اہم اور یادگار سنگِ میل قرار دیا گیا۔تقریب کے اختتام پر چیئرمین بورڈ آف گورنرز ڈاکٹر شہزاد بنگش اور پیراپلیجک سینٹر کی انتظامیہ کی جانب سے صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمان کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی، جو پیراپلیجک سینٹر کے لیے ان کی خصوصی دلچسپی اور تعاون کے اعتراف کی علامت تھی۔بعد ازاں یومِ آزادی پاکستان کی مناسبت سے کیک کاٹنے کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔ صوبائی وزیرِ صحت، چیئرمین بورڈ آف گورنرز، ری ہیبلیٹیشن ڈائریکٹر، پیراپلیجک سینٹر کی انتظامیہ، عملے اور مریضوں نے مل کر کیک کاٹا اور وطنِ عزیز کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں