احیاء پشاور منصوبے کے تحت جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا

احیاء پشاور منصوبے کے تحت جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، پختونخوا ہائی وے اتھارٹی، محکمہ آبپاشی اور پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران نادرن بائی پاس کے نامکمل حصے کی تعمیر، رنگ روڈ پر ٹریفک رش کے شکار مقامات پر انڈر پاسز کی تعمیر اور دیگر اہم ترقیاتی امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر پیسکو کی سپلائی لائن کو پیر زکوڑی فلائی اوور سے سوری پل، امن چوک اور کارخانو تک زیرِ زمین منتقل کرنے کے عمل کا بھی جائزہ لیا گیا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ پشاور میں بچوں کے لیے 750 ملین روپے کی لاگت سے ایک ہائی ٹیک پارک قائم کیا جا رہا ہے۔ وزیر بلدیات نے ہدایت کی کہ اس منصوبے کے لیے تمام فیزیبلٹی اور تکنیکی تقاضوں کی تکمیل کے عمل کو مزید تیز کیا جائے۔ اجلاس میں جی ٹی روڈ اور رنگ روڈ کے سنگم پر پیر زکوڑی کلوور لیف انٹرچینج کی تعمیر پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی اور بتایا گیا کہ پانی کے چینل کی موجودگی کے باعث رنگ روڈ ہزار خوانی کے مقام پر فلائی اوور تعمیر کیا جائے گا۔وزیر بلدیات نے یونیورسٹی روڈ، رامداس چونگی اور لاہوری چوک پر ٹریفک ہاٹ سپاٹس کے مسائل کے حل کے لیے ترجیحی بنیادوں پر تعمیراتی کام شروع کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پشاور شہر میں تمام لوکل بس اسٹینڈز کو ختم کیا جا رہا ہے، جبکہ جنوبی اضلاع کے لیے کوہاٹ روڈ پر قائم بس اڈے کو بھی متبادل مقام پر منتقل کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ جنوبی اضلاع کے لیے ایک جدید اور اسٹیٹ آف دی آرٹ بس اسٹینڈ کے قیام کے لیے موزوں مقام کی نشاندہی کا عمل بھی جاری ہے۔اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ یونیورسٹی روڈ سے رنگ روڈ اور نادرن بائی پاس تک لنک روڈز کی تعمیر کے لیے کنسلٹنٹ کی بھرتی رواں ماہ کی جائے گی۔ اجلاس کے اختتام پر وزیر بلدیات مینا خان آفریدی نے ہدایت کی کہ آئندہ جائزہ اجلاس تک احیاء پشاور منصوبے کے تحت تمام سکیموں کی فیزیبلٹی اور متعلقہ امور ہر لحاظ سے مکمل کیے جائیں تاکہ منصوبوں پر بروقت اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

مزید پڑھیں