خیبرپختونخوا کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز کی بحالی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے

خیبرپختونخوا کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز کی بحالی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں محکمہ اعلیٰ تعلیم کے حکام کے ساتھ مختلف طلبہ تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی اور طلبہ یونینز کی بحالی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔اجلاس میں اسلامی جمعیت طلبہ، انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن، پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن، پختونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور دیگر طلبہ سوسائٹیز کے عہدیداران نے طلبہ یونینز کی بحالی کے حوالے سے اپنے مؤقف اور تجاویز پیش کیں۔ اجلاس کے دوران انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدر مشرف آفریدی کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دی گئی، جس میں محکمہ اعلیٰ تعلیم کے نمائندگان اور مختلف طلبہ یونینز کے قائدین شامل ہوں گے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مذکورہ کمیٹی آئندہ پندرہ روز کے اندر اپنی سفارشات مرتب کر کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں پیش کرے گی، تاکہ طلبہ یونینز کی بحالی کے لیے ایک متفقہ اور قابلِ عمل لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے کہا کہ حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ جلد از جلد تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز کو بحال کیا جائے، کیونکہ طلبہ یونینز کی بحالی سے ملکی اور صوبائی سطح پر باصلاحیت اور جمہوری قیادت ابھر کر سامنے آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایک آمرانہ دور میں اپنی حکمرانی کو دوام دینے کے لیے طلبہ یونینز جیسی قیادت کے نرسری نظام پر کاری ضرب لگائی گئی، جس کے منفی اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔مینا خان آفریدی نے مزید کہا کہ طلبہ یونینز کی بحالی سے موروثی سیاست، جاگیردارانہ سوچ اور مخصوص طبقات کی اجارہ داری کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا، جبکہ نوجوانوں کو حقیقی جمہوری عمل میں کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بعض نامعلوم قوتیں آج بھی پاکستان میں حقیقی جمہوری قیادت کے فروغ کی راہ میں رکاوٹ بننا چاہتی ہیں، تاہم صوبائی حکومت اس سلسلے میں اپنے عزم پر قائم ہے۔اجلاس کے اختتام پر اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا حکومت طلبہ کے حقوق کے تحفظ اور تعلیمی اداروں میں مثبت، جمہوری اور تعمیری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کی مختلف جامعات میں تدریسی اور غیر تدریسی سٹاف کی بھرتی سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں جامعہ شانگلہ، انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز پشاور اور جامعہ باچا خان چارسدہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران جامعہ شانگلہ میں تدریسی اور معاون عملے کی بھرتی کے عمل کا جائزہ لیا گیا، جس پر صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ بھرتیوں کے عمل کو مزید ریشنلائز کیا جائے تاکہ وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے جامعہ شانگلہ کو یہ بھی ہدایت دی کہ مختلف شعبہ جات میں طلبہ کی انرولمنٹ کو طے شدہ فارمولے کے تحت مزید بڑھایا جائے۔ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ جامعہ شانگلہ میں سیکیورٹی گارڈز اور مالیاتی نوعیت کی بعض پوسٹوں کو آؤٹ سورس کیا جائے گا۔انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز پشاور کے حوالے سے اجلاس میں ادارے کی تمام مجوزہ سٹاف بھرتیوں پر اتفاقِ رائے کا اظہار کیا گیا، جبکہ وزیر اعلیٰ تعلیم نے ہدایت کی کہ انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز اور جامعہ شانگلہ میں سٹاف بھرتی کا عمل فی الفور مکمل کیا جائے تاکہ تعلیمی اور انتظامی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔اجلاس میں جامعہ باچا خان چارسدہ میں سٹاف بھرتی سے متعلق فیصلے کو مؤخر کرتے ہوئے ہدایت کی گئی کہ جامعہ کے حکام مزید ہوم ورک کے ساتھ آئندہ اجلاس میں یہ ایجنڈا دوبارہ پیش کریں تاکہ تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے کی جامعات میں شفاف، منصفانہ اور ضرورت کے مطابق بھرتیوں کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ اعلیٰ تعلیم کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

مزید پڑھیں