خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس میں ڈائریکٹوریٹ آف آرکائیوز و لائبریریز کے حکام نے صوبے کی عوامی لائبریریز کو ڈیجیٹلائز کرنے کے منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس میں ڈائریکٹوریٹ آف آرکائیوز و لائبریریز کے حکام نے صوبے کی عوامی لائبریریز کو ڈیجیٹلائز کرنے کے منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت خیبرپختونخوا کے 16 اضلاع میں 18 عوامی لائبریریز فعال ہیں، جہاں مجموعی طور پر 43 ہزار 200 سے زائد کتب اور سیریل پبلیکیشنز دستیاب ہیں۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ صوبائی آرکائیوز میں 90 ہزار سے زائد تاریخی و قیمتی آرکائیول مواد محفوظ ہے جو صوبے کے علمی و ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتا ہے۔حکام نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ شہداء آرمی پبلک سکول پبلک لائبریری پشاور کا روزانہ اوسطاً 1500 افراد دورہ کرتے ہیں، جبکہ اس لائبریری کے ساتھ رجسٹرڈ قارئین کی تعداد تقریباً 3000 ہے، جو عوامی لائبریریز میں بڑھتی دلچسپی کا واضح ثبوت ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوامی لائبریریز کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جامع اور قابلِ عمل تجاویز پیش کی جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ لائبریریز کو ڈیجیٹل سہولیات، جدید انفراسٹرکچر اور جدید سروسز سے آراستہ کیا جائے تاکہ نئی نسل کو تحقیق اور مطالعے کی طرف راغب کیا جا سکے۔مینا خان آفریدی نے کہا کہ عوامی لائبریریز کو مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور حکومت انہیں جدید خطوط پر استوار کر کے ہی دم لے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے میں علمی و تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ اور مطالعے کے کلچر کو مضبوط بنانے کے لیے تمام ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں