خیبرپختونخوا میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹس اور میتھس پر مشتمل جدید لرننگ ماڈل کے نفاذ سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے کی۔ اجلاس میں سیکرٹری اعلیٰ تعلیم ڈاکٹر اسرار سمیت محکمہ اعلیٰ تعلیم کے دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈگری کالجز میں سٹیم لرننگ ماڈل کے آغاز کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سٹیم لرننگ ماڈل کے پہلے مرحلے میں صوبے بھر کے ڈگری کالجز کے 2250 فیکلٹی ممبران کو خصوصی تربیت دی جائے گی، جن میں 50 فیصد خواتین فیکلٹی سٹاف شامل ہوں گی۔ اس مرحلے کے تحت تقریباً 30 ہزار طلبہ براہِ راست مستفید ہوں گے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ڈگری کالجز میں سٹیم لرننگ ماڈل کے نفاذ سے ڈیجیٹل ٹولز کے استعمال میں 50 فیصد تک اضافہ ممکن ہو سکے گا، جس سے تدریسی معیار میں بہتری آئے گی۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سٹیم لرننگ کے نتیجے میں تیار ہونے والی مصنوعات اور تخلیقی منصوبوں کو صوبائی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں اس پروگرام پر مجموعی طور پر 341 ملین روپے خرچ کیے جائیں گے۔وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ فیکلٹی سٹاف تربیت حاصل کرے اور اس کا فائدہ طلبہ تک نہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیم لرننگ ماڈل کے ذریعے طلبہ کو جدید دور اور مارکیٹ بیسڈ ضروریات کے مطابق تیار کیا جائے گا تاکہ وہ عملی زندگی میں بہتر کردار ادا کر سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں فیکلٹی ممبران کی پروموشن کے عمل میں بھی سٹیم لرننگ ماڈل سے وابستہ کارکردگی اور شمولیت کو بطور ایک اہم عنصر شامل کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ تعلیم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں جدید تعلیم کے فروغ کے لیے ایسے اصلاحاتی اقدامات جاری رکھے جائیں گے تاکہ تعلیمی ادارے قومی و بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ ہو سکیں۔
