خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت حلقہ پی کے 83 سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ابتدائی و ثانوی تعلیم کے نظام کو مزید بہتر بنانے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں چیف پلاننگ آفیسر ابتدائی و ثانوی تعلیم زین گیلانی نے وزیر اعلیٰ تعلیم کو حلقہ پی کے 83 میں تعلیمی سہولیات اور جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے جامع بریفنگ دی۔اجلاس کے دوران وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے ہدایت کی کہ حلقہ پی کے 83 میں مقامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے دو نئے کمیونٹی اسکولز قائم کیے جائیں تاکہ بچوں کو گھر کے قریب معیاری تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ پرائمری اور ہائر سیکنڈری اسکولز میں خستہ حال کمروں کو فوری طور پر منہدم کر کے دوبارہ تعمیر کیا جائے تاکہ طلبہ کو محفوظ اور بہتر تعلیمی ماحول فراہم ہو۔وزیر اعلیٰ تعلیم نے گورنمنٹ پرائمری اسکول ڈبگری روڈ پشاور کی عمارت کی فوری تعمیر شروع کرنے کی بھی ہدایت جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ حلقہ پی کے 83 میں واقع تمام اسکولز کو پیرنٹس ٹیچر کونسل (پی ٹی سی) فنڈز فراہم کیے جائیں گے تاکہ اسکولوں کی سطح پر درپیش چھوٹے مگر اہم مسائل کو بروقت حل کیا جا سکے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ سکولوں میں تدریسی و غیر تدریسی عملے کی کمی کو دس دن کے اندر پورا کیا جائے گا۔ وزیر نے بتایا کہ حلقہ پی کے 83 میں چالیس سے زائد اسکولوں میں فرنیچر کی فراہمی کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ جنوری کے اختتام تک تمام سکولوں میں سولرائزیشن سسٹمز کی مرمت مکمل کر لی جائے گی۔ اس کے علاوہ جن سکولوں میں ابھی تک سولر سسٹم نصب نہیں، وہاں آئندہ تین ماہ کے اندر سولرائزیشن مکمل کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مینا خان آفریدی نے کہا کہ حلقہ پی کے 83 میں تعلیم سمیت ہر شعبے میں ترقیاتی کام جاری ہیں اور صوبے بھر میں حقیقی تبدیلی کے فروغ کے لیے حکومت سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ معیاری تعلیم کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
