وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات خیبرپختونخوا مینا خان آفریدی نے الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے شعبے سے وابستہ طلبہ کو درپیش مسائل کے حل کے لیے بروقت اقدام اٹھاتے ہوئے صوبہ بھر میں پائی جانے والی بے چینی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں الائیڈ ہیلتھ سائنسز ڈگری پروگرامز سے متعلق موجودہ صورتحال، درپیش چیلنجز اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے مینا خان آفریدی نے کہا کہ صوبے کی متعدد جامعات میں الائیڈ ہیلتھ سائنسز سے وابستہ طلبہ کی پیشہ ورانہ استعداد کار بڑھانے کے حوالے سے مختلف تکنیکی اور انتظامی چیلنجز درپیش ہیں، جنہیں فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ کوئی بھی سرکاری یا نجی جامعہ اپنی مرضی سے الائیڈ ہیلتھ سائنسز کی نشستوں کی تقسیم نہیں کرے گی بلکہ سیٹوں کی الاٹمنٹ معیار (کوالٹی) کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے گی۔وزیر اعلیٰ تعلیم نے اس بات پر زور دیا کہ جو طلبہ جہاں بھی اس وقت انرولڈ ہیں، ان کی ڈگری کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے اور وہ اپنی متعلقہ جامعات کے طے شدہ طریقہ کار کے تحت اپنی تعلیم جاری رکھیں گے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت کسی صورت طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دے گی۔اجلاس میں وائس چانسلر جامعہ گومل، ڈیرہ اسماعیل خان ڈاکٹر ظفر، خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے حکام اور محکمہ اعلیٰ تعلیم کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ الائیڈ ہیلتھ سائنسز سے متعلق درپیش تکنیکی چیلنجز کے خاتمے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک ٹاسک فورس قائم کی جائے گی، جو محکمہ اعلیٰ تعلیم کے تحت فوری طور پر ایک جامع اور قابلِ عمل طریقہ کار وضع کرے گی۔مزید یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے طلبہ کی پیشہ ورانہ مہارت میں اضافے کے لیے انہیں انٹرن شپ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ عملی میدان میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔ مینا خان آفریدی نے کہا کہ طلبہ ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز سے وابستہ طلبہ صحت کے شعبے میں کمیونٹی کے لیے نمایاں خدماتسرانجام دیتے ہیں۔اجلاس کے اختتام پر وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت خیبرپختونخوا اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں معیار، شفافیت اور طلبہ کے مفادات کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گی۔
