وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید مروت نے سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں خیبرپختونخوا کے آٹھ اضلاع میں مبینہ فوجی آپریشن کی منظوری سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے خیبر، ٹانک، کرم، باجوڑ، کوہاٹ، لکی مروت، بنوں اور وزیرستان میں کسی نئے فوجی آپریشن کی منظوری نہیں دی گئی۔ عوام سے اپیل ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات اور افواہوں پر یقین کرنے کی بجائے صرف مستند اور سرکاری ذرائع سے جاری کردہ معلومات پر اعتماد کریں۔
طارق سعید مروت نے واضح کیا کہ بجٹ میں مختلف مدات کے تحت مختص کیے جانے والے فنڈز ہنگامی حالات، قدرتی آفات، ممکنہ نقل مکانی، ریلیف، بحالی اور دیگر انتظامی ضروریات کے لیے رکھے جاتے ہیں۔ ان فنڈز کو کسی مخصوص یا نئے فوجی آپریشن کی منظوری سے جوڑنا حقائق کی غلط تشریح ہے۔
انہوں نے کہا کہ امن و امان کے قیام، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور متاثرہ علاقوں میں امدادی و بحالی اقدامات کے لیے حکومت تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ہر فیصلہ قومی مفاد، قانون اور عوامی فلاح کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔
معاونِ خصوصی نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، غیر مصدقہ معلومات کے پھیلاؤ سے گریز کریں اور افواہوں کے ذریعے عوام میں بے چینی پیدا کرنے سے اجتناب کریں۔
