
مشیر برائے صنعت و تجارت خیبرپختونخوا ڈاکٹر محمد ارشاد کی زیر صدارت خواتین کی معاشی خودمختاری اور متاثرہ آبادی کے روزگارکے لئے پی بوئٹ اور آئی آر سی میں تعاون کے حوالے سے کے پی بوئٹ کے دفتر میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں خیبرپختونخوا بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ (کے پی بوئٹ) اور انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی (آئی آر سی) کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں خیبرپختونخوا بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ (کے پی بوئٹ) اور انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی (آئی آر سی) نے صوبے میں خواتین کی معاشی خودمختاری، فنی تربیت، روزگار کے پائیدار مواقع اور تنازعات و قدرتی آفات سے متاثرہ آبادی کی بحالی کے لیے ممکنہ مشترکہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ آئی آر سی کے وفد کی قیادت ای آر ڈی ٹیکنیکل ایڈوائزر اور ایشیا کے علاقائی فوکل پرسن نعیم فریوات نے کی۔ اجلاس میں ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) اور دونوں اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں خواتین کو کاروبار کے مواقع فراہم کرنے، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، کاروباری انتظامی صلاحیتوں میں اضافے، رہنمائی اور منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کے لیے ممکنہ مشترکہ اقدامات پر غور کیا گیا۔ شرکاء نے خواتین کاروباری شخصیات کو درپیش مالی، سماجی اور ادارہ جاتی رکاوٹیں دور کرنے اور خواتین کی زیرِ قیادت چھوٹے و درمیانے کاروباروں کی معاونت کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں تنازعات، بدامنی، نقل مکانی اور قدرتی آفات سے متاثرہ خاندانوں کے روزگار کی بحالی کے امکانات بھی زیرِ بحث آئے۔ اس سلسلے میں مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ فنی تربیت، چھوٹے کاروباروں کے فروغ، آمدن کے متبادل ذرائع اور خواتین، نوجوانوں سمیت کمزور طبقات کو معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ امدادی سرگرمیوں کو پائیدار روزگار اور معاشی بحالی کے اقدامات سے منسلک کیا جائے تاکہ متاثرہ خاندان اپنے معاشی حالات بہتر بنا سکیں۔ حکومتی اداروں، ترقیاتی تنظیموں، کاروباری انجمنوں اور نجی شعبے کے درمیان مؤثر رابطہ کاری سے مقامی آبادی کو تربیتی اداروں، کاروباری مواقع، ممکنہ آجروں اور منڈیوں تک رسائی فراہم کی جا سکتی ہے۔اس موقع پر ڈاکٹر محمد ارشاد نے کہا کہ خواتین کی معاشی خودمختاری، ہنرمندی کا فروغ اور متاثرہ آبادی کے روزگار کی بحالی پائیدار معاشی ترقی کے اہم اجزا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی اداروں اور نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے اور خاندانوں کے معاشی تحفظ کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔کے پی بوئٹ نے خواتین کی معاشی خودمختاری، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور متاثرہ آبادی کے لیے پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی غرض سے آئی آر سی، سمیڈا، چیمبرز آف کامرس اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کے امکانات تلاش کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مجوزہ تعاون کو عملی شکل دینے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری جاری رکھی جائے گی۔
