وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ موجودہ دور کا سب سے بڑا عالمی خطرہ بن چکی ہے، جس کے اثرات خیبرپختونخوا سمیت پورے پاکستان پر انتہائی شدت کے ساتھ مرتب ہو رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں ڈان میڈیا گروپ کے زیر اہتمام منعقدہ “بریتھ پاکستان انٹرنیشنل کلائمیٹ چینج کانفرنس 2026” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
شفیع جان نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث سینکڑوں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ انفراسٹرکچر اور قدرتی ماحولیاتی نظام کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔
معاون خصوصی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی صرف سیلاب یا گلیشیئرز تک محدود مسئلہ نہیں بلکہ فضائی آلودگی، جنگلات کی کٹائی، بے ہنگم شہری پھیلاؤ اور ماحول دشمن طرز زندگی بھی انسانی صحت اور ماحول کے لیے سنگین خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا آلودگی میں انتہائی کم حصہ ڈالنے کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سب سے زیادہ برداشت کر رہا ہے، لہٰذا فوری اور اجتماعی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات کے تحفظ، سیلاب اور موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔شفیع جان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا حکومت نے بانی چیئرمین عمران خان کے سرسبز اور پائیدار پاکستان کے وژن کے تحت ماحولیاتی تحفظ کو اولین ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلین ٹری سونامی منصوبہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ اقدام ہے، جس نے صوبے میں جنگلات کے فروغ میں تاریخی کردار ادا کیا۔ اسی تسلسل میں ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام شروع کیا گیا، جس کا مقصد شجرکاری کے فروغ کے ساتھ ساتھ کاربن اخراج میں کمی اور عالمی ماحولیاتی اہداف کے حصول میں کردار ادا کرنا ہےانہوں نے کہا کہ گرین پاکستان پروگرام اور جوائنٹ فارسٹ مینجمنٹ جیسے اقدامات کے ذریعے مقامی آبادی کو جنگلات کے تحفظ میں شریک کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جی آئی ایس مانیٹرنگ، تھرڈ پارٹی ویریفکیشن اور شفاف رپورٹنگ جیسے جدید نظاموں نے ان اقدامات کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا ہے۔صوبائی حکومت کی شجرکاری کی بدولت صوبے میں جنگلات کا رقبہ 19 فیصد سے بڑھ کر 26.5 فیصد تک پہنچ چکا ہے جبکہ ان اقدامات کے نتیجے میں دو لاکھ سے زائد گرین جابز بھی پیدا ہوئی ہیں۔شفیع جان نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ماحولیاتی پالیسی کو صرف جنگلات تک محدود نہیں رکھا بلکہ ماحول دوست ٹرانسپورٹ اور صاف توانائی کے فروغ کے لیے بھی متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے جنگلات پاکستان کی تقریباً 50 فیصد کاربن جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔معاون خصوصی نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے خیبرپختونخوا کلائمیٹ ایکشن بورڈ (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری دی ہے، جس کے تحت خیبرپختونخوا کلائمیٹ کونسل کے ذریعے کلائمیٹ ایکشن بورڈ کی نگرانی اور مؤثر رہنمائی کو یقینی بنایا جائے گا۔
شفیع جان نے کہا کہ اگرچہ خیبرپختونخوا حکومت نے مؤثر ماحولیاتی پالیسیاں متعارف کرائی ہیں، تاہم قومی سطح پر ماحولیاتی ترجیحات کا درست تعین نہ ہونا تشویشناک امر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ماحولیاتی تحفظ کو قومی پالیسی اور ترقیاتی ترجیحات میں مرکزی حیثیت دی جائے اور قومی مالیاتی کمیشن
کے فارمولے میں جنگلات کے تحفظ اور ماحولیاتی خدمات کو بھی شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی جنگلات کے تحفظ کے لیے وسائل کی منصفانہ تقسیم ضروری ہے۔معاون خصوصی شفیع جان نے ڈان میڈیا گروپ کے بریتھ پاکستان کانفرنس کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس پلیٹ فارم نے ماحولیاتی تحفظ کے موضوع کو قومی مکالمے کا حصہ بنا دیا ہے، جو ایک قابل تحسین پیش رفت ہے۔
