عمران خان سے ملاقات میں مسلسل رکاوٹیں آئین، قانون اور جمہوری اقدار کی پامالی ہیں، شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ آج بانی چیئرمین عمران خان سے عدالتی احکامات کے مطابق اہل خانہ اور وکلاء کی ملاقات کا دن تھا تاہم ایک مرتبہ پھر کسی کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی جو عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقاتوں میں مسلسل رکاوٹیں ڈالنا آئین، قانون اور جمہوری اقدار کی پامالی ہے، جو انتہائی قابل مذمت اور افسوسناک عمل ہے۔ شفیع جان نے کہا کہ عمران خان اور ان کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کے لیے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین اڈیالہ جیل کے باہر موجود تھے جہاں ملاقات کی اجازت نہ دینے پر وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور منتخب پارلیمنٹرینز نے بطور احتجاج دھرنا دیا ،شفیع جان نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، پارٹی رہنماؤں، اہل خانہ اور وکلاء کو کئی ماہ سے عمران خان سے ملاقات سے روکا جا رہا ہے پرامن سیاسی سرگرمیوں پر قدغن اور عمران خان سے ملاقاتوں میں رکاوٹیں ڈالنا آمرانہ طرز حکمرانی کی عکاسی ہے،انہوں نے کہا کہ عمران خان سے سیاسی قیادت، اہل خانہ اور وکلاء کی ملاقات آئینی و قانونی حق ہے جسے کسی صورت سلب نہیں کیا جا سکتا۔ بغیر عوامی مینڈیٹ کے قائم وفاقی اور پنجاب حکومتوں نے عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے جو بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات کے دن پر راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ کرکے پنجاب حکومت نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ جیل میں قید عمران خان سے خوفزدہ ہے۔ اڈیالہ جیل کے باہر کرفیو کا سماں تھا ، سڑکوں کو بند کردیا گیا تھا پنجاب حکومت خوف عمران خان میں بوکھلاہٹ کے شکار ہوچکا ہے،جعلی مینڈیٹ والی پنجاب حکومت عدالتی احکامات کے باوجود اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے عمران خان سے ملاقاتوں میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔وفاقی اور پنجاب حکومتوں نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بہتر طبی سہولیات سے بھی محروم رکھا ہوا ہے۔شفیع جان نے مزید کہا کہ وفاقی اور پنجاب حکومتیں گورننس میں اپنی ناکامی چھپانے کے لیے سیاسی انتقام کی سیاست کر رہی ہیں،پاکستان تحریک انصاف ایک پُرامن، جمہوری اور آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھنے والی سیاسی جماعت ہے،ملک میں آئین و قانون کی بالادستی اور عمران خان کی رہائی کے لیے قانونی، جمہوری اور پُرامن سیاسی جدوجہد جاری رہے گی۔

مزید پڑھیں