وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی ہدایات پر معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے پشاور میں لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کے کنٹریکٹ ملازمین کے احتجاجی نمائندہ وفد سے کامیاب مذاکرات کیے، جس کے نتیجے میں لیڈی ہیلتھ ورکرز نے پشاور میں جاری اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا یے۔مذاکرات کے دوران لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مسائل، بالخصوص تنخواہوں کی مد میں بقایا جات اور دیگر امور پر بات چیت کی گئی۔ معاون خصوصی شفیع جان نے وفد کو یقین دلایا کہ صوبائی حکومت ان کے جائز مطالبات کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور مزید اقدامات کئے جائیں گے۔بعد ازاں اسمبلی چوک میں احتجاجی ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مطالبات کے حل کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تمام مطالبات کا جامع جائزہ لے کر قابلِ عمل سفارشات پیش کرے گی۔انہوں نے اعلان کیا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کے کنٹریکٹ ملازمین کی دو ماہ کی بقایا تنخواہیں دو دن کے اندر ادا کر دی جائیں گی، جبکہ مزید چار ماہ کی تنخواہیں بھی جلد جاری کی جائیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے وژن کے مطابق عوامی فلاح کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کو عوام اور سرکاری ملازمین کو درپیش مسائل کا مکمل ادراک ہے، اور صوبائی حکومت ان کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔شفیع جان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت لیڈی ہیلتھ ورکرز کو بہتر اور محفوظ کام کا ماحول فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ صحت کا شعبہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ انتہائی مشکل حالات میں فیلڈ میں کام کرتے ہوئے عوام کو بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔ ان کی محنت، لگن اور خدمات قابلِ تحسین ہیں، اور صوبائی حکومت ان کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
