
گورنر خیبرپختونخوا کی مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ، ریلیف، بحالی و آبادکاری ثمر ہارون بلور نے ریسکیو 1122 ہیڈکوارٹر پشاور کا دورہ کیا، جہاں ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 ڈاکٹر خطیر احمد نے انہیں ادارے کی مجموعی کارکردگی، جاری منصوبوں، تنظیمی ڈھانچے اور درپیش مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر متعلقہ سیکرٹری اور ریسکیو 1122 کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔دورے کے دوران مشیر اطلاعات نے ریسکیو 1122 کے مختلف اسٹالز کا معائنہ کیا اور آپریشنل گاڑیوں، جدید مشینری اور امدادی آلات کے بارے میں بریفنگ حاصل کی۔ ریسکیو اہلکاروں نے ہنگامی حالات میں ریسکیو آپریشنز، امدادی کارروائیوں اور فوری طبی امداد کی فراہمی کا عملی مظاہرہ بھی پیش کیا۔ڈی جی ریسکیو 1122 نے بتایا کہ ادارے کو قیام سے اب تک 13 کروڑ سے زائد ایمرجنسی کالز موصول ہوئیں، جبکہ صوبے بھر میں لاکھوں ہنگامی واقعات میں خدمات فراہم کی گئیں۔ بریفنگ کے مطابق ریسکیو 1122 نے اب تک 15 لاکھ 59 ہزار سے زائد ایمرجنسی اور 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد ریفرل کیسز میں خدمات انجام دیں ہیں، جبکہ 19 لاکھ 95 ہزار سے زائد مریضوں اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں ریسکیو 1122 کے 126 اسٹیشنز میں سے 90 مکمل تیار اور فعال ہیں، جبکہ 36 اسٹیشنز زیر تعمیر یا تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں۔بریفنگ میں ادارے کو درپیش مالی و انتظامی مشکلات سے بھی آگاہ کیا گیا، جن میں پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی، گاڑیوں کی مرمت و دیکھ بھال، نئے بھرتی ہونے والے اہلکاروں کے یونیفارم، اسٹیشنز کی تعمیر، اراضی اور انتظامی مسائل شامل ہیں۔ باقی ماندہ تحصیلوں تک ریسکیو سروس کی توسیع، گنجان آباد علاقوں میں خصوصی مراکز کے قیام اور جدید اسنارکلز کی فراہمی کو بھی اہم ضروریات قرار دیا گیا۔اس موقع پر مشیرِ اطلاعات ثمر ہارون بلور نے کہا کہ ریسکیو 1122 کو جدید ٹیکنالوجی، جدید ترین آلات اور تمام ضروری وسائل سے لیس کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ادارے کو درپیش مالی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے، جبکہ اہلکاروں کے الاؤنسز، فنڈز اور دیگر مسائل کا حل بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں، قدرتی آفات اور امن و امان کی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ریسکیو 1122 کو ہر ممکن وسائل فراہم کیے جائیں گے۔ ریسکیو اہلکار ہمارے ہیروز ہیں، ان کی پیشہ ورانہ مہارت، جذبہ خدمت اور انسانی جانیں بچانے کے لیے قربانیاں قابل تحسین ہیں۔مشیر اطلاعات نے ہدایت کی کہ ریسکیو اہلکار ایمرجنسی کی اطلاع ملنے پر کم سے کم وقت میں جائے وقوعہ پر پہنچنے کو یقینی بنائیں اور فرائض کی انجام دہی میں کسی قسم کی غفلت نہ برتیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ اور مشکل وقت میں فوری امداد فراہم کرنا ریسکیو 1122 کی بنیادی ذمہ داری ہے۔صنفی مساوات کے فروغ کے لیے ثمر ہارون بلور نے ہدایت کی کہ ریسکیو 1122 میں نئی بھرتیوں کے دوران خواتین، بالخصوص دیہی علاقوں کی خواتین کی شمولیت اور مؤثر نمائندگی کو خصوصی ترجیح دی جائے تاکہ انہیں روزگار کے مساوی مواقع میسر آ سکیں۔انہوں نے سرکاری و نجی کالجز اور یونیورسٹیز میں طلبہ کو آگ بجھانے، ابتدائی طبی امداد اور بنیادی کارڈیو پلمونری ریسیسیٹیشن (سی پی آر) کی باقاعدہ تربیت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تربیت دے کر اپنی اور دوسروں کی جانیں بچانے کے قابل بنایا جائے۔
